ماسکو (22 جنوری 2026): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر مشروط رضا مندی ظاہر کر دی ہے، اور کہا کہ منجمد اثاثوں سے روس ایک ارب ڈالر دینے کے لیے تیار ہے۔
صدر پیوٹن نے کہا کہ امریکا میں منجمد کیے گئے روسی اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر لے سکتا ہے، بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے، اور روس اس مقصد کے لیے عملی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بین القوامی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی حمایت کی ہے، جب کہ موجودہ امریکی انتظامیہ یوکرین بحران میں کردار ادا کر رہی ہے۔
امریکا کی گرین لینڈ کے حصول کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ یہ معاملہ تشویش کا باعث نہیں، امریکا کا گرین لینڈ خریدنے کا خیال انیسویں صدی میں روس کی جانب سے الاسکا کی فروخت جیسا ہے۔ اگر اُس وقت الاسکا کی فروخت کو مدنظر رکھا جائے تو آج کے دور میں گرین لینڈ کی ممکنہ قیمت 200 سے 250 ملین ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، یواےای، قطر کا غزہ بورڈ آف پیس پر مشترکہ اعلامیہ
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پہلے چارٹر کا باضابطہ طور پر اعلان کرنے والے ہیں، جو بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک ادارہ ہے جس کی مستقل رکنیت کے لیے 1 بلین ڈالر کی قیمت رکھی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے بدھ کو کہا کہ اب تک تقریباً 35 عالمی رہنماؤں نے بھیجے گئے 50 یا اس سے زیادہ دعوت ناموں میں سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا عہد کیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


