The news is by your side.

Advertisement

بھارت : دریاؤں کے بعد کورونا متاثرین کی سیکڑوں لاشیں میدانوں میں بے یارو مددگار

نئی دہلی : بھارت میں کورونا سے متاثرہ افراد کی لاشیں دریاؤں سے ملنے کے بعد اب کھلے میدانوں سے بھی ملنے لگیں، حالیہ بارشوں کے بعد ریت میں مدفون لاشیں کھلے آسمان تلے پڑی ہیں۔

بھارت کے ایک گاؤں میں دریا کے کنارے ریت میں دفن کی گئیں سیکڑوں لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، سوشل میڈیا پر صارفین یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ یہ کوویڈ-19 متاثرین کی لاشیں ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جیپ اور کشتیوں پر سوار پولیس اہلکار لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو ہدایات دے رہے ہیں  وہ لاشوں کو دریاؤں میں نہ پھینکیں اور ہم آپ کی مدد کے لیے حاضر ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر پریاگ راج میں جمعے کو طوفانی بارش کے بعد دریا کے کنارے ریت میں دفن کی گئیں کپڑوں میں لپٹی لاشیں قبروں سے باہر نکل گئی تھیں۔

ریاستی حکومت کے ترجمان نوینیت سہگل نے اپنے بیان میں مقامی میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں یقین سے کہہ رہا ہوں کہ یہ لاشیں کوویڈ-19 متاثرہ نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گاؤں کے متعدد افراد ہندو روایت کے تحت مذہبی لحاظ سے کچھ دورانیے تک اپنے مردوں کو نہیں جلاتے، انہیں دریا برد کرتے ہیں یا دریا کنارے ان کی قبریں کھودتے ہیں۔

سینئر پولیس افسر کے پی سنگھ کا کہنا تھا کہ پریاگراج دریا کے کنارے کوویڈ-19 کے باعث ہلاک افراد کی آخری رسومات کے لیے حکام نے اقدامات کیے ہیں اور دریا کے کنارے پر پولیس کسی مردے کی تدفین کی اجازت نہیں دیتی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے لکھنو سے40 کلومیٹر شمال میں ضلع اوناؤ کے دو مختلف مقامات پرریت میں دفنائی گئیں درجن بھر لاشیں نکال لی گئی تھیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کہنا تھا کہ موت کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیش کی جارہی ہے۔

بھارت کی دو ریاستیں اترپردیش اور بہار میں کورونا سے سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں اور یہاں کی آبادی مجموعی طور پر 35 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے، دور دراز علاقوں سے لوگ علاج کے لیے شہروں کی طرف رخ کرتے ہیں لیکن کئی افراد راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں جبکہ بھارتی صحت کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں