منگل, جولائی 21, 2026
اشتہار

زیارت میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید 21 پولیس اہلکاروں کی میتیں کوئٹہ منتقل، ورثا نے دھرنا دے دیا

اشتہار

حیرت انگیز

کوئٹہ: زیارت میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید 21 پولیس اہلکاروں کے ورثا نے میتیں سڑکوں پر رکھ کر دھرنا دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں زیارت کے علاقے مانگی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا کے بعد شہید کیے جانے والے 21 پولیس اہلکاروں کی میتیں کوئٹہ منتقل کر دی گئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے اہلکاروں کو مانگی اور زرغون غر کے درمیانی پہاڑی علاقے میں یرغمال بنانے کے بعد بے دردی سے شہید کیا تھا۔

میتیں شہر پہنچنے پر لواحقین کی بڑی تعداد سول اسپتال جمع ہو گئی جہاں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔

واقعے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے ورثا اور مقامی شہریوں نے کوئٹہ کے مختلف مقامات پر میتیں سڑکوں پر رکھ کر دھرنا دے دیا ہے۔

مظاہرین نے 14 پولیس اہلکاروں کی لاشیں کوئلہ پھاٹک کے قریب مرکزی شاہراہ پر رکھ کر احتجاج شروع کیا، جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

دوسری جانب ہنہ اوڑک کے رہائشیوں نے بھی سیکیورٹی فورسز کے دیگر 5 شہدا کی لاشیں بی اے مال کے قریب رکھ کر دھرنا دے دیا۔

احتجاجی مظاہروں میں شریک لواحقین اور شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کریں اور بلوچستان سے دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کر کے ان کے پیاروں کے قاتلوں کو فوری طور پر عبرت کا نشانہ بنائیں۔

انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کو منانے اور دھرنا ختم کرانے کے لیے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔

اہم ترین

مزید خبریں