The news is by your side.

Advertisement

فرانس، لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد، عوام کا ’’پولیس گردی‘‘ کے خلاف احتجاج، حکومت مشکل میں پھنس گئی

پیرس: فرانس کےشہر ناتھ سے لاپتہ ہونے والے نوجوان کی لاش دریا کنارے سے برآمد ہوگئی جس کے بعد عوام نے پولیس اور حکومت کے خلاف شدید احتجاج شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق فرانس کے شہر ناتھ کے قریب 21 اور 22 جون کی رات میوزیکل کنسرٹ جاری تھا کہ اسی دوران پولیس نے مقررہ وقت پر پروگرام ختم نہ ہونے پر لوگوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

پولیس کی جانب سے پر امن منتشر ہونے کی اپیل کی گئی البتہ عوام اپنی جگہ سے نہ ہٹے جس کے بعد نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑی اور جب حالات خراب ہوئے تو آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی چلائی گئیں۔

پولیس حکام کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے بعد 13 سے 14 نوجوانوں نے جان بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ بھی لگائی، ان میں ایک نوجوان اسٹیو مایہ کانیکو بھی شامل تھا۔زندہ بچ جانے والے تو دریا سے باہر نکل گئے البتہ 38 روز بعد اسٹیو کی لاش دریا کنارے برآمد ہوئی۔

لاش برآمد ہونے کے بعد عوام نے حکومت کو قتل کا ذمہ دار قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فائرنگ میں ملوث اہلکاروں کو کڑی سزا دی جائے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ نے واقعے پر وضاحت پیش کی البتہ معاملہ حل نہیں ہوا جس کے بعد وزیراعظم ایڈورڈ فلپ کو بھی صفائی دینا پڑی البتہ عوام نے اسے بھی مسترد کردیا۔

حکومت نے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا جس نے اپنا کام شروع کردیا جبکہ دوسری جانب نوجوان کی ہلاکت کے خلاف فرانس کے دارالحکومت میں مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پولیس گردی میں ملوث اہلکاروں کو سزا دی جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں