The news is by your side.

Advertisement

جارج فلوئیڈ کی میت چرچ پہنچا دی گئی، ارکان کانگریس گھٹنوں کے بل جھک گئے

ہیوسٹن : امریکا بھر میں جارج فلوئیڈ کی پولیس تشدد سے ہلاکت کیخلاف احتجاج جاری ہے، غلاموں کے تاجر کا مجسمہ گرادیا گیا، مقتول جارج فلوئیڈ کی میت ہیوسٹن چرچ پہنچا دی گئی، میئر نیویارک نے پولیس فنڈنگ میں کٹوتی کردی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل ہونے والے سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کو انصاف کی فراہمی کے لیے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

عوام کے مطالبے کے پیش نظرامریکا میں پولیس کے لیے مختص فنڈ میں کٹوتی کی مہم بھی شروع ہوچکی ہے، پولیس فنڈنگ روکنے کا مطالبہ زور پکڑنے پر میئر نیویارک نے فنڈ میں کٹوتی کردی ہے۔

دوسری جانب مقتول جارج فلوئیڈ کی میت آخری رسومات کیلئے ہیوسٹن پہنچا دی گئی، ڈیمو کریٹ صدارتی امیدوارجوبائیڈن، گورنر ٹیکساس اور میئر ہیوسٹن چرچ پہنچ گئے۔

ہیوسٹن میں جارج فلوئیڈ کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے ہزاروں افراد کی آمد کا سلسہ جاری ہے، فلوئیڈ سے اظہار یکجہتی کیلئے اسپیکر نینسی پلوسی سمیت ارکان کانگریس گھٹنوں کے بل جھک گئے۔

غلاموں کی خرید و فروخت کرنے والے تاجر کا مجسمہ زمیں بوس

اس سے قبل برطانیہ کے شہر برسٹل میں نسلی منافرت کیخلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ گرا دیا اور اس کی گردن پر سوار ہوگئے، ایڈورڈ کولسٹن سترھویں صدی میں غلاموں کی خریدوفروخت کا کاروبار کیا کرتا تھا۔

واضح رہے کہ کولسٹن سترہویں صدی کا مال دار تاجر تھا وہ اس وقت سیاہ فاموں کو غلام بنا کر ان کی تجارت کرنے والی برطانیہ کی واحد رائل افریقن کمپنی کے کلیدی افراد میں شامل تھا، برسٹل میں اس کمپنی کا مرکزی دفتر قائم تھا، اس کمپنی نے زرعی شعبے میں مشقت لینے کے لیے ہزاروں سیاہ فام باشندوں کی بردہ فروشی کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں