site
stats
انٹرٹینمںٹ

سینیما بحالی:‌ کیا سعودی عرب میں رجنی کانت اور اکشے کمار کی قسمت کھل جائے گی؟

ریاض: سعودی حکومت کے روشن خیال پروگرام کے تحت مملکت میں میں سینیما اور  شوبز انڈسٹری کی بحالی کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، بالی ووڈ پرویوسر نے رجنی کانت اور اکشے کمار کی نئی فلم 2.0 کی نمائش کے لیے حکومت سے رابطہ کرلیا۔

العربیہ کے مطابق سعودی عرب میں رواں سال مارچ میں حکومت نے سینیما گھروں کو باقاعدہ کھولنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے پروڈیوسرز فلموں کی نمائش کے لیے سعودی حکومت سے رابطہ کررہے ہیں۔

بالی ووڈ فلم 2.0 کے پروڈیوسر بھی اپنی فلم کی نمائش کے لیے حکومت سے رابطے کیا، اُن کی خواہش ہے کہ رجنی کانت اور اکشے کمار کی یہ فلم سعودی عرب کے سینیما گھروں میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جائے۔

میڈیا کا دعویٰ ہے کہ سینیما کی بحالی کے بعد وہاں غیر ملکی بھی فلمیں دیکھنے جائیں گے جن میں ایشیائی ممالک پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے باشندوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہوگی۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں سنیما انڈسٹری آئندہ برس بحال ہوگی

پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ وہ سائنس فکشن فلم کو تین زبانوں ہندی، تامل اور تیلگو میں پیش کررہے ہیں تاہم اگر سعودی حکومت فلم ریلیز کرنے کی اجازت دیتی ہے تو سعودی عرب میں بھی فلم تینوں زبانوں میں ہی پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ رجنی کانت اور اکشے کمار کی سائنس فکشن فلم 2.0 کا شمار مہنگی ترین فلموں میں کیا جارہا ہے جس پر تقریبا 450 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔

یاد رہے کہ فلم کی شوٹنگ مکمل نہ ہونے پر اس کی ریلیز کو دو بار منسوخ کیا گیا ہے تاہم پروڈیوسر کی جانب سے نمائش کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق اپریل میں 2.0 نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: سرکاری ٹی وی پر میوزیکل کنسرٹ نشر

خیال رہے کہ رواں سال کے وسط میں سعودی حکومت نے وژن 2030 کے تحت خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے اہم فیصلے کے بعد طالبات کو یونیورسٹیوں میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی جبکہ وشن خیالی  کی سمت ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے سرکاری چینل پر عرب لیجنڈ گلوکارہ ام کلثوم کا میوزک کنسرٹ نشر کیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top