The news is by your side.

Advertisement

بالی وڈ کی وہ فلمیں‌ جن سے شائقینِ سنیما کو ‘دلی صدمہ’ ہوا

آج سے چند دہائیوں قبل تک پاک و ہند میں سنیما کے شائقین کا مزاج کچھ الگ ہی رہا ہے۔ فلمی پردے پر ہیرو اور ہیروئن کی محبّت کا الم ناک انجام ان کے لیے قابلِ قبول نہیں‌ ہوتا تھا۔

کسی بھی فلم میں محبّت کرنے والوں کے درمیان دائمی جدائی یا ان میں سے کسی ایک کی دنیا سے رخصتی کا منظر پیش کرنا فلم ساز یا کہانی کار کے لیے آسان نہ تھا۔ اس لیے رومانوی فلموں کا اختتام خوش گوار ہی ہوتا تھا، لیکن اس وقت بھی بالی وڈ میں ایسی فلمیں‌ بنائی گئیں جو "ہیپی اینڈنگ فارمولے” کے برخلاف تھیں اور یہ کام یاب بھی ہوئیں۔

یہاں‌ ہم تین ایسی فلموں کا تذکرہ کررہے ہیں جن کا ناخوش گوار انجام فلم بینوں کے لیے بڑا دھچکا تو ثابت ہوا، لیکن ان فلموں نے زبردست بزنس بھی کیا۔

مغلِ اعظم 1960ء کی وہ فلم تھی جس کا ذکر ہندی سنیما کی تاریخ میں‌ آج بھی کیا جاتا ہے۔ مدھو بالا اور دلیپ کمار کی فلمی جوڑی بہت مقبول ہوئی تھی۔ فلم ساز آصف نے تاریخی کرداروں اور اُس مشہور واقعے پر فلم بنائی جسے سنیما بین سنتے اور پڑھتے آئے تھے۔ یعنی وہ اس جوڑی کا انجام پہلے سے جانتے تھے۔

ایک طرف انار کلی اور دوسری طرف شہزادہ سلیم تھا اور ان کی محبّت بادشاہ کے حکم پر بدترین انجام سے دوچار ہوئی۔ فلم کے آخر میں انار کلی کو دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے، لیکن یہ بھی تاثر دیا جاتا ہےکہ اکبر نے اس لڑکی کو سلیم سے کبھی نہ ملنے کا وعدہ لے کر ہمیشہ کے لیے غائب ہوجانے دیا۔ تاریخ میں محفوظ اس محبّت کے انجام سے واقف ہونے کے باوجود فلم بینوں کو پردے پر یہ سب دیکھ کر شدید رنج اور دکھ پہنچا تھا۔

شرت چندر کے مشہور ناول دیو داس پر یوں تو ہندوستان میں متعدد فلمیں بنائی جاچکی ہیں، لیکن 2002ء میں شاہ رخ خان نے اس فلم کا مرکزی کردار ادا کیا اور کہانی کے مطابق پارو کے گھر کے سامنے دم توڑا تو جیسے ہر دل ٹوٹ ہی گیا۔ آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور فلم بین اداس و مغموم نظر آئے۔ تاہم فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی۔

فلم ایک دوجے کے لیے 1981ء میں بڑے پردے پر نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ یہ وہ فلم تھی جس میں کمل ہاسن اور رتی اگنی ہوتری دونوں ہی نے شان دار اداکاری کی اور خوب داد پائی، لیکن فلمی پردے کی اس جوڑی کا انجام بہت درد ناک تھا۔ فلم کے آخر میں ہیرو ہیروئین اپنی زندگی ختم کرلیتے ہیں اور فلم کے اس اختتام سے شائقین کو بڑا دھچکا لگا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں