بالی وڈ کے بعض بڑے نام بھی اپنی شخصیت کے تحفظ کے لیے چوکس ہوچکے ہیں، انہوں نے اپنی ’شخصیت کے حقوق‘ کو قانونی تحفظ دینے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے، جو شخصیات ڈیپ فیک، اے آئی سے پریشان ہیں، ان میں کرن جوہر، ایشوریہ رائے بچن اور ان کے شوہر اداکار ابھیشیک بچن بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شخصیت کے حقوق، جنھیں ’پبلسٹی رائٹس‘ بھی کہتے ہیں، ایسے حق کو ظاہر کرتے ہیں کہ جس کے تحت کوئی فرد اپنی شناخت یا شخصیت سے مالی یا دیگر فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس میں کسی فرد کا نام، تصویر، آواز، انداز، یا وہ جملے یا حرکات شامل ہیں جو اس شخصیت سے مسنوب ہوتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ وہ حقوق ہیں جو کسی شخص کی شناخت کے غلط استعمال یا غیر قانونی تجارتی فائدے سے بچاتے ہیں، اور یہ حقوق صرف اس فرد تک محدود ہوتے ہیں۔
بھارت میں شخصیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی خاص قانون موجود نہیں، اس لیے جج حضرات عام قانون کا سہارا لیتے ہیں، یعنی ایسے قوانین جو عدالتوں کے فیصلوں کی بنیاد پر وقت کے ساتھ بنے ہیں۔
بھارت میں ان حقوق کو اکثر و بیشتر نظر انداز کردیا جاتا ہے اور چھوٹے کاروبار یا دکانیں مشہور شخصیات کی تصاویر کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔
بالی وڈ کے سٹارز نے دہلی ہائی کورٹ میں دائر اپنی درخواستوں میں شکایت کی ہے کہ اے آئی کے ذریعے ان کی شناخت کو غیر قانونی طریقے سے تجارتی مقاصد، جعلی پروفائلز، جعلی ویب سائٹس، اور یہاں تک مصنوعی ذہانت سے فحش مواد تیار کرنے کے لیے استعمال میں لایا جارہا ہے۔
ان مشہور شخصیات کے حقوق کو عدالت کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے اور متعلقہ افراد اور پلیٹ فارمز کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی مواد حذف کردیں۔
معروف اداکار انیل کپور نے 2023 میں متعدد ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز پر مقدمہ کیا تھا کیونکہ وہ ان کا نام، تصویر، آواز، اور ان کا مشہور جملہ ’جھکاس‘ (جسے انھوں نے ایک فلم میں ادا کیا تھا) تجارتی مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جارہا تھا۔
جیکی شروف کی جانب سے گزشتہ برس دائرکردہ شکایت پر ان کی شخصیت کے حقوق کو تسلیم کیا گیا اور بغیر اجازت ان کے نام، تصویر یا عرفی ناموں کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔
سیف علی خان اور امریتا سنگھ کی شادی کی حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں
گلوکار دلیر مہندی نے بھی 2002 میں اپنی شخصیت کے حقوق کے لیے عدالت کا رخ کیا تھا، انہوں نے اپنی مشابہت میں بنائے گئے کھلونوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
یہ کھلونے بازار میں سرعام فروخت ہو رہے تھے۔ ان کو رنگ برنگی پگڑیاں اور لباس پہنائے گئے تھے، اور بیٹری سے چلنے والی گڑیاں ان کے مشہور گانے بھی گاتی تھیں، عدالت نے ان کھلونوں کی تیاری اور فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


