The news is by your side.

Advertisement

بالی وڈ کی مشہور فلموں کے مصنّف اور افسانہ نگار ساگر سرحدی دنیا سے رخصت ہوگئے

‘سلسلہ’ اور ‘کہو نہ پیار ہے’ جیسی معروف فلموں کے مصنّف اور مکالمہ نگار ساگر سرحدی ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 88 برس تھی۔

ساگر سرحدی بولی وڈ میں مکالمہ نگار، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کی حیثیت سے مشہور ہیں، مگر دنیائے ادب میں انھیں باکمال افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

ساگر سرحدی کا پورا نام گنگا ساگر تلوار تھا۔ وہ 11 مئی 1933ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد بھارت چلے گئے جہاں فلم انڈسٹری میں اپنی پہچان بنائی اور اردو ادب میں اپنی تخلیقات اور طرزِ نگارش کے سبب نام و مقام پیدا کیا۔

ساگر سرحدی نے بالی وڈ کی درجنوں فلموں کے اسکرین پلے اور مکالمے لکھے، کہانی نویس اور مکالمہ نگار کے طور پر ان کی شہرت کا آغاز 1976ء میں بننے والی فلم ‘کبھی کبھی’ سے ہوا، اس فلم میں امیتابھ بچن اور راکھی نے کام کیا تھا، اس فلم کی کام یابی کے بعد انھوں نے فلم ‘بازار’ کے ہدایت کار کے طور پر قسمت آزمائی اور کام یاب رہے۔ اس فلم میں مشہور اداکارہ سمیتا پٹیل اور نصیرالدین شاہ نے کام کیا تھا۔ ساگر سرحدی فاروق شیخ، نصیرالدین شاہ اور شبانہ اعظمی کی 1984ء میں بننے والی فلم ‘لوری’ کے پروڈیوسر بھی تھے۔

ان افسانوں کا مجموعہ ‘جیون جانور’ کے نام سے شایع ہوچکا ہے۔ ساگر سرحدی کے تحریر کردہ مشہور ڈراموں میں ‘بھگت سنگھ کی واپسی، خیال کی دستک، راج دربار اور تنہائی’ شامل ہیں۔

چند روز قبل انھیں دل کے عارضے کے سبب ممبئی کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیرِ علاج رہنے کے بعد آج اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں