The news is by your side.

Advertisement

امریکا:جان بولٹن کومشیرنامزد کرنےپراسرائیل کا خیرمقدم

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جان بولٹن کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کرنے پر اسرائیلی حکام کا ٹرمپ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موجودہ امریکی صدر زیادہ اسرائیل دوست ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل اقوام متحدہ میں امریکا کے سابق سفیر جان بولٹن کو قومی سلامتی کا مشیر منتخب کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے بش دور میں اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے سفیر اور سخت گیر سوچ رکھنے والے جان بولٹن کو جنرل میک ماسٹر کی جگہ قومی سلامتی کا مشیر نامزد کیا تھا۔

جان بولٹن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اسرائیل کے حامی اور ایران کے بہت بڑے مخالف ہیں۔ جان بولٹن نے اسرائیل کی حمایت میں یہ بیان بھی دیا تھا کہ مسئلہ فلسطین پے پر امریکا کا تجویز کردہ دو ریاستی نظریہ تجویز کیا تھا وہ دم توڑ گیا ہے۔

اسرائیل میں سخت گیر دائیں بازو کی جماعت جوئش ہوم پارٹی اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کے وزراء نے جان بولٹن کی نامزدگی کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو

نیتن یاہوکا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اوران کی کابینہ سمیت تمام امریکی حکام امریکا کی تاریخ میں سب سے زیادہ اسرائیل دوست ثابت ہورہے ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ تعلیم نفتالی بینٹ جو جوئش پارٹی کے سربراہ بھی ہیں ان کا اپنے ٹویٹر پیغام میں کہنا تھا کہ جان بولٹن ایک غیر معمولی سکیورٹی ماہر ہیں، تجربہ کار سفارت کار اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کے ایک گہرے اور قریبی دوست ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ انصاف کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی اسرائیل دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلسل اسرائیل کے سچے اور کھرے دوستوں کو اہم عہدوں پر فائز کر رہے ہیں۔

دوسری طرف فلسطینی حکام نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے بولٹن کی نامزدگی کی سخت مذمت کی ہے۔ فلسطین کے ترجمان حنان اشروی کا کہنا تھا کہ بولٹن کی فلسطین مخلاف سوچ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور وہ اُس وقت سے فلسطین کے مخالف ہیں جب وہ اقوام متحدہ میں امریکا کےسفیر تھے اوراسرائیل کے ہر ناجائز موقف کا بڑھ چڑھ کر دفاع کرتے تھے۔

فلسطین کی ترجمان جنان اشروی

ان کا کہنا تھا کہ جان بولٹن کو قومی سلامتی کا مشیر بنانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ انتہا پسند صہونی اور بنیاد و نسل پرست مسیحّوں کا حصہ بن گئی ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدامات کرنا فلسطین کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے زمانے میں وہ اقوام متحدہ کے سفیر تھے جہاں وہ اپنی تُند و تیز بیانات اور اسرائیل کی حمایت کرنے کی وجہ سے متازع حیثیت اختیار کر گئے تھے۔

امریکی جریدے کے مطابق میں سنہ2009 میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں انھوں نے کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل پیدائش سے پہلے ہی مر چکا ہے۔ اسی مضمون میں انھوں نے تجویز کیا تھا کہ فلسطینی علاقوں کو مصر اور اردن کے حوالے کر دینا چاہیے۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے تین ریاستی حل کے بارے میں سوچنا چاہیے جہاں غزہ کی پٹی کو مصر کو اور مغربی حصّہ چند تبدیلیوں کے ساتھ اردن کے حوالے کر دینا چاہیے۔

جان بولٹن کا مسئلہ فلسطین کے حوالے کیا گیا ٹویٹ

 

جان بولٹن نے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیے جانے کے ٹرمپ فیصلے کی بھی بڑے زور شور سے حمایت کی تھی۔ انھوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ ‘یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہ کر کے ہم ایک مغالطے کا شکار تھے‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں