The news is by your side.

Advertisement

پشاور: مدرسہ میں دھماکا ،7 بچے شہید ، 96 زخمی

پشاور: دیر کالونی میں مدرسہ میں دھماکے کے نتیجے میں 7 بچے شہید اور 96 زخمی ہوگئے، پولیس کا کہنا ہے کہ مدرسے میں آئی ای ڈی دھماکا ہوا ، دھماکے کے زخمیوں میں زیادہ ترتعداد بچوں کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاورکےعلاقےدیرکالونی میں مدرسےمیں صبح آٹھ بجےکےقریب جب بچےتعلیم حاصل کرنےمیں مصروف تھے اور معلم نے مائیک پر درس قرآن کا آغاز ہی کیا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوا، ہرطرف ہولناک آگ لگ گئی اور زخمیوں کی چیخ وپکار سے درودیوار ہل گئے۔

دھماکے کے نتیجے میں7 بچے شہید اور 96 زخمی ہوگئے ، پولیس اورریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے زخمیوں میں زیادہ ترتعدادبچوں کی ہے، جن کی عمریں 9 سے 15 سال ہیں ، دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے حادثے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شواہدجمع کرناشروع کردئیے ہیں۔

مدرسے میں دھماکےکے مناظر ، دھماکا بیان کے دوران ہوا


اے آر وائی نیوز نمائندے کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا ، اس وقت 50 بچے مدرسے میں موجود تھے اور درس قرآن جاری تھا ، دھماکہ اتنا روز دار تھا کہ پوری عمارت لرز اٹھی،  مدرسے کی دیواروں اور ستونوں کو نقصان پہنچا، چھت کاایک حصہ ٹوٹ کرگرگیا جبکہ دروازے اور کھڑکیاں بھی نہیں بچی اور مسجدکی زمیں پرجگہ جگہ گڑھے پڑگئے۔

پشاور لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 70 افرادکو  منتقل کیا گیا ، جن میں 40 بچے شامل ہیں ،لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹرز کو طلب کرلیا گیا ہے۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال کا کہنا ہے کہ زخمیوں کوحیات آباد برنس سینٹرمنتقل کیاجارہاہے، دھماکے کے زیادہ ترزخمی جھلسے ہوئے ہیں ، دھماکے کے 72 زخمی اسپتال لائے گئے ہیں، جن میں سے 5زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ شہید وزخمی ہونیوالوں کی عمریں 20سے30سال کے درمیان ہیں۔

ایل آرایچ کے مطابق دیر کالونی دھماکے کے زخمیوں کی تعداد 96 ہو گئی جبکہ 7جاں بحق افرادکوایل آرایچ منتقل کیا گیا اب تک تاحال 40 زخمیوں کو ڈسچارج کیا گیا ہے جبکہ 27 زخمیوں کوطبی امداد دینے کے بعد نصیر اللہ بابر اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔

ایک شخص نےمدرسےمیں بیگ رکھا جس کے بعد دھماکا ہوگیا


عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک شخص نےمدرسےمیں بیگ رکھا جس کے بعد دھماکا ہوگیا، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وقوعہ سے شواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں۔

مدرسے میں آئی ای ڈی دھماکا ہوا، ایس پی وقاراحمد


ایس پی وقاراحمد نے بتایا کہ نماز کےبعدمسجد میں درس قرآن کااہتمام کیاگیا تھا، مدرسے میں آئی ای ڈی دھماکا ہوا، دھماکےمیں ملوث عناصر کو کیفرکردارتک پہنچائیں گے، کے پی پولیس نے دہشت گردی کیخلاف لمبی جنگ لڑی ہے۔

ایس پی کا کہنا ہے کہ مدرسے کے اطراف لگے کیمروں کی فوٹیجز حاصل کی جارہی ہیں، بارودی مواد کے ساتھ بال بیرنگ بھی موجود تھے۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ مدرسےمیں داخل ہونےوالےمشکوک شخص کی تلاش جاری ہے، 5 سے 6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، اس کے علاوہ بال بیرنگ کا بھی استعمال کیا گیا ، جس سے زیادہ نقصان کا خدشہ ہے۔

ہال کے مرکزمیں دھماکا ہوا، جس کے باعث نقصان  زیادہ ہوا، اےآئی جی بی ڈی ایس


اےآئی جی بی ڈی ایس شفقت ملک نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ خودکش نہیں بلکہ ٹائم بم سےکیا گیا،دھماکہ ہال کے مرکز میں بندکمرے میں ہوااس لئےزیادہ تباہی ہوئی۔

مدرسے میں دھماکےکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، شوکت یوسفزئی


پشاور حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مدرسے میں دھماکےکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ایک شخص مدرسےمیں بیگ رکھ کرفرارہوا،انویسٹی گیشن جاری ہے، الرٹ جاری ہونے کے بعد سے شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ دہشت گرد سافٹ ٹارگٹ کی تلاش میں رہتے ہیں، دہشت گردوں نےدیکھاکہ یہ سافٹ ٹارگٹ ہے، مساجد اور مدرسوں میں ایسے واقعات کاکوئی سوچ بھی نہیں سکتا، دہشت گردوں کا مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہوسکتا ہے؟

نیکٹا الرٹ


یاد رہے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کے حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری کیا تھا، الرٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گرد حملوں کی تیاری کررہی ہے ، دہشت گرد منصوبے میں ہائی پروفائل سیاسی شخصیت کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی شامل ہیں۔

نیکٹا کا کہنا تھا کہ اہم سیاسی شخصیت کو خودکش دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا جاسکتا ہے، قمردین کاریز سے برآمد مواد کوئٹہ اور کے پی میں دہشت گردی میں استعمال ہونا تھا۔

خیال رہے دو روز قبل صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں شالکوٹ تھانے کی حدود میں دھماکا ہوا تھا ، دھماکے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق جبکہ دو افرادزخمی ہوگئے تھے، دھماکا خیزمواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیاتھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں