کراچی : گیس لیکیج کے باعث عمارت منہدم ہونے پر انچارج بم ڈسپوزل اسکواڈ نے انکشاف کیا ہے کہ گھر کے کچن میں گیس کی فٹنگ بھی ناقص تھی، سپلائی کیلئے پلاسٹک کے پائپ استعمال کیے گئے۔
کراچی کے علاقے سولجر بازار میں گیس لیکیج کے باعث عمارت منہدم ہونے کے واقعے پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج نے بتایا کہ دھماکاگیس لیکیج کے باعث ہوا سلنڈرنہیں پھٹا بلکہ گھر کے کچن میں گیس کی فٹنگ بھی ناقص تھی۔
عابد فاروق کا کہنا تھا کہ جگہ جگہ گیس کی سپلائی کیلئے پلاسٹک کے پائپ استعمال کیے گئےہیں، پلاسٹک پائپ اور جوائنٹس کے باعث گیس کی لیکیج زیادہ ہوتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ عمارت میں گیس کھینچنے والی مشینیں بھی لگی ہوئی ہیں ، بتایا گیا کہ علاقےمیں کئی روز سے گیس نہیں آرہی تھی، گزشتہ رات اچانک گیس کی تیز سپلائی شروع ہوئی۔
انچارج بم ڈسپوزل اسکواڈ نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر گیس چابی کھلی رہنے، شارٹ سرکٹ یا ماچس جلانے سے دھماکا ہوا، کراچی میں اکثر واقعات گیس کے اخراج سے ہوتے ہیں، سلنڈر دھماکے سے نہیں۔
مزید پڑھیں : کراچی : سولجربازارمیں گیس لیکج دھماکے سے رہائشی عمارت گرگئی ، 16 افراد جاں بحق
دوسری جانب ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا گیس لیکج سے ہوا، ملبے سے 14افراد کی لاشوں کو نکالا جا چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کیمیکل ایگزامن کے بعد ہی دھماکےکی اصل نوعیت کا تعین ہوگا، واقعےکی تحقیقات کی جائیں گی، متعلقہ محکمہ بتائے گا کہ عمارت قانونی تھی یاغیر قانونی تھی، تعین کر کے واقعے کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔
خیال رہے واقعےمیں جاں بحق افراد کی تعدا 16 ہوگئی ہے اور 13افراد زخمی ہیں تاہم سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے اور ملبہ اٹھانے کا کام شام تک جاری رہے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


