The news is by your side.

Advertisement

بامبے ٹاکیز: فن کاروں کے لیے شہرت اور نام وَری کا زینہ ثابت ہوا

“بامبے ٹاکیز” کا نام بیسویں صدی کے 30 ویں عشرے میں فلم بینوں کے سامنے آیا۔

اس فلم اسٹوڈیو کے بانیوں میں راج نارائن دوبے، ہمانشو رائے اور دیویکا رانی شامل ہیں۔ اس کے بینر تلے دلیپ کمار، مدھوبالا، راج کپور، کشور کمار، ستیہ جیت رے، بمل رائے اور دیو آنند جیسے فن کاروں نے شہرت اور نام وری کا سفر شروع کیا اور آج بھی شائقینِ سنیما کے دلوں میں اور فلم انڈسٹری میں نمایاں مقام اور بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔

ہندوستانی سنیما سے متعلق راج نارائن نے اپنی یادداشتیں رقم کیں تو اس پروڈکشن ہاؤس کے آغاز اور کام یابیوں کے ساتھ اپنے وقت کے نام ور فن کاروں اور دیگر آرٹسٹوں کے بارے میں کئی دل چسپ باتیں اور مختلف واقعات بھی سامنے آئے جو خوب صورت یادگار ہیں۔ ان میں مختلف فن کاروں کا پروڈیوسر سے جھڑکیاں اور ڈانٹ سننے کے علاوہ اپنی غلطی پر تھپڑ کھانا بھی شامل ہے۔

یہ مشہور اور سب سے پرانا پروڈکشن ہائوس دہاءیوں قبل ہندی سنیما کو نئی وسعتوں کی طرف دھکیلنے، اس شعبے میں جان ڈالنے اور نئی کام یابیوں سے ہم کنار کرنے کا سبب بنا۔

بامبے ٹاکیز نے فلم انڈسٹری کو دلیپ کمار، اشوک کمار، محمود علی، راج کپور، دیویکا رانی اور مدھو بالا جیسے اداکار دیے اور ہندی سنیما کو نئے رجحانات سے متعارف کروایا۔

دلیپ کمار اور مدھو بالا جیسے فن کاروں نے اپنی پہلی فلم اسی بینر تلے کی تھی۔ یہ پروڈکشن ہائوس 1934 میں قائم کیا گیا۔ تاہم آپس کے اختلافات کے بعد 1954 میں اسے بند کردیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں