آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ -
The news is by your side.

Advertisement

آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ

جواں سال شاعر شبیر نازش کی کتاب’’ آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘ کی تقریبِ پذیرائی کراچی پریس کلب میں منعقد کی گئی ، اس موقع پر کثیر تعداد میں علم دوست شخصیات اور معززین ِ شہر موجود تھے جو کہ اس منفرد لب و لہجے کے شاعر کی پذیرائی کے لیے تشریف لائے تھے ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیرِاہتمام جواں سال شاعرشبیرنازش کے اولین مجموعہ کلام’’آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘ کی تقریبِ پذیرائی کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت معروف شاعروادیب ڈاکٹرپیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے فرمائی۔ اکرم کنجاہی، ڈاکٹرآفتاب مضطر، حنیف عابد، اورخرم سہیل نے کتاب اور صاحبِ کتاب پر شاندار الفاظ میں اظہارِخیال کیا جب کہ منجھے ہوئے صداکار شاہ رخ مرزا نے مانچسٹر سے بھیجا گیا معروف شاعر باصرسلطان کاظمی کا خط پڑھ کے سنایا اور ٹورنٹو سے تشریف لائے ہوئے مہمان شاعر منیف اشعر نے کتاب و صاحبِ کتاب کی منظوم تحسین کی۔

نظامت کے فرائض معروف شاعرہ آئرین فرحت اور موسیٰ کلیم نے بخوبی ادا کیے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا جس کی سعادت آصف الیاس نے حاصل کی جب کہ صغیراحمد جعفری نے بحضور سرورِکونین گلہائے عقیدت پیش کیے۔ تقریبِ پذیرائی کے حوالے سے اے ایچ خانزادہ نے ابتائی کلمات ادا کیےاور زیب اذکار حسین نے آنے والے معزز مہانوں کا شکریہ ادا کیا۔ کتاب کی تقریبِ پذیرائی کے موقع پر شہر کی علم دوست شخصیات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

ڈاکٹرپیرزادہ قاسم نےاپنے صدارتی خطاب میں فرمایا مجھے خوشی ہے کہ شبیرنازش نے بڑے بھرپورانداز سے،بڑے سلیقے کے ساتھ اپنے ہونے کا احساس کرایا ہے کہ میں ہوں، ظاہر ہے کہ ان کا یہ سفر بہت آگے تک جانے کا ہے۔ ان کے موضوعات میں عشق ایک خاص موضوع کے طورپر سامنے آیا ہے،جسے شبیرنازش نے منفرد انداز میں برتا ہے اور یہ دیگر موضوعات کو بھی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ برتتے ہیں۔ کنارے کنارے بہنے کے بجائے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کے لیے بڑی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور شبیرنازش کی شاعری میں مین دھارے میں شامل ہونے والی شعری توانائی کے آثار واضح نظر آتے ہیں۔ میں ان کے اندر جو توانائی دیکھ رہا ہوں ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ شبیرنازش ہمارے اس دور میں شامل ہیں جو رواں دواں شاعری کو آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

معروف شاعرو نقاد اکرم کنجاہی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا شبیرنازش کے کلام کا مطالعہ کیا جائے تو وہ بڑی توانائی کے ساتھ دونوں شعری قطبین پر ایستادہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ ایک طرف غزل کی بنیادی تہذیب سے جڑا ہوا ہے اور دوسری طرف متنوی فکریات کی حامل جدید حسیت سے مزین نظم میں بھی اپنے جوہر نمایاں کررہا ہے۔ شبیرنازش اس حوالے سے مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے اپنا لہجہ تراشنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔

حنیف عابد نے اپنے مضمون میں کہا ’’آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘شبیرنازش کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔ اس کے مطالعے سے جہاں شبیرنازش کے شعری قدکاٹھ کا اندازہ ہوتا ہے وہیں ان کے مستقبل کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ شبیرنازش ہمارے عہد کا ایک ایسا شاعر ہے جس کے تخیلات نے قبولِ عام کی سند حاصل کی اور اس کی شاعری عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمان بن گئی۔

ڈاکٹرآفتاب مضطر نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ شبیرنازش کے شعری مجموعہ کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس مجموعہ کے ہر صفحے پر ایک شعر جمکتا ہوا ضرور نظر آتا ہے۔

معروف نقاد خرم سہیل نے کہا کہ غزل اور نظم دونوں میں یکساں مہارت رکھنے والے اس شاعر نے معیار پر بھی سمجھوتہ نہیں،کم لکھا مگر اچھا لکھا، کیونکہ برا لکھنے کے لیے بہت سارے شاعر ان کے ہم عصروں میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں اور انجام کو پہنچ رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں