پیر, مارچ 16, 2026
اشتہار

علّامہ اقبال کا وہ شعر جس پر ارشد گورگانی نے بے اختیار ہو کر داد دی

اشتہار

حیرت انگیز

ارشد گورگانی جن کا اصل نام مرزا عبدالغنی تھا۔ بہادر شاہ ظفرکی بڑی لڑکی سلطان بیگم کے حقیقی نواسے اور مرزا علی بہادر کے صاحبزادے تھے۔ اُن کی ولادت قلعۂ معلّیٰ دہلی میں ہوئی۔ ابھی ان کی عمر سات سال کی ہی ہوئی تھی کہ 1857ء کی تحریکِ آزادی کی ناکامی نے دہلی کی مرکزیت کو تباہ کر دیا۔ مسلمان انگریزوں کے ہاتھوں شدید عذاب اور ابتلا سے دو چار ہوئے۔ ارشد گورگانی نے چند سال قطب صاحب میں قیام کیا۔ پھر پنجاب کے سر رشتۂ تعلیم سے منسلک ہو کر لاہور چلے آئے۔

لاہور اس وقت علماء اور فضلاء کا مرکز بنا ہوا تھا۔علمی مجلسیں اور ادبی محفلیں خیال و فکر میں وسعت پیدا کر رہی تھیں۔ ارشد گورگانی کو لاہور والوں نے ہا تھوں ہاتھ لیا۔ اور اپنی مجلسوں اور محفلوں میں نمایاں جگہ دی۔ وہ پنجاب کے مسلم البثوت صاحبان فن میں شمار کیے جانے لگے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ جب 1884ء میں انجمنِ حمایتُ الاسلام قائم ہوئی تو اس کی مجلسِ مشاورت میں ان کو بھی شامل کیا گیا۔ انہوں نے اس کے پہلے اجلاس میں نظم سنانے کی بجائے ارکان خمسۂ اسلام کے عنوان سے ایک مضمون پڑھا۔ 1895ء میں حکیم شجاع الدین نے اُردو کی وسعت اور ترقی کو دیکھتے ہوئے ایک بزمِ مشاعرہ کی بنیاد رکھی جس میں لاہور کے تمام نامور اور ممتاز شعراء شریک ہوتے تھے۔ اس کے شرکاء میں ارشد گورگانی کا نام سر فہرست تھا۔ اقبال ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے۔ ایک دن ان کے دوست ان کو مشاعرے میں کھینچ کر لے گئے۔ اقبال نے اپنی غزل سنائی اور جب اس شعر پر پہنچے۔

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

تو ارشد گورگانی اچھل پڑے اور بے اختیار ہو کر داد دی اور کہا، اقبال اس عمر میں یہ شعر! پھر کیا تھا اقبال نے دو تین مشاعروں میں غزلیں پڑھیں اور لوگوں میں اُن کا چرچا ہو گیا۔ ارشد گورگانی نے اقبال کو بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، خود اقبال کو اس بات پر فخر تھا کہ ان کو ارشد گورگانی کی صورت میں ایک قدر دان مل گیا ہے۔ اقبال اور ان میں اکثر ملاقات رہا کرتی تھی لیکن جب وہ ملازمت سے ریٹائر ہوکر اپنے لڑکے بلند اختر رشید کے پاس ملتان چلے گئے تو ان سے اقبال کا تعلق ختم ہو گیا۔ ملتان کی آب و ہوا ارشد گورگانی کے مزاج کے موافق نہیں تھی۔ وہ وہاں جا کر بیمار رہنے لگے اور پھر بتدریج ان کی بیماری میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ بالآخر اٹھاون سال کی عمر میں وہ 2 فروری 1907ء کو انتقال کر گئے۔

(کتاب رجالِ اقبال مؤلفہ عبدالرّؤف عروج سے ایک یاد)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں