حیرت بن واحد، شہر اور یونیورسٹی کیمپس کے ایک بہت ہی دل چسپ نفر تھے۔ شاعر، ناقد، صحافی، سیاست داں، مقرر، واعظ المختصر Jack of All Trades تھے۔ یاروں کے یار وہ، غیروں کے غیر وہ، منھ زور اور بے لگام وہ، جتنے ملنسار اتنے ہی طوطا چشم وہ۔
مسلم یونیورشی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے کسی آفس میں ملازم تھے۔ افسران اور اسٹاف سے آئے دن جھگڑا کر بیٹھتے تھے۔ اکثر معطل کر دیے جاتے تھے۔ آخر نوکری سے برخاست کر دیے گئے۔ علی گڑھ میں جس شاعر یا ادیب نے حیرت بن واحد کی مخالفت کی یا جس سے موصوف خفا ہوئے اس کی ہجو ضرور لکھی اور ببانگ دہل سناتے پھرے۔ ایک دفعہ کسی بات پر غوث محمد غوثی اور امانت اللہ اسیر سے برگشتہ خاطر ہوئے تو دونوں شاعروں کی طویل ہجویں منظوم لکھیں اور اپنے غیر پابند پندرہ روزہ اخبار کے ضمیمے میں چھاپ کر گھر گھر تقسیم کیا۔ ان کی ہجویات کے تیر و نشتر بڑے ہی کارگر ہوتے تھے۔ جن سے ہر کوئی کترا کر نکلنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا تھا۔ حیرت بن واحد کی زوجہ گزر چکی تھیں، اس سے ایک لائق و فائق بیٹا تھا جو دہلی میں کسی محکمے کا اعلیٰ عہدے دار تھا۔ خود علی گڑھ میں جامعہ اردو کے پہلو میں اپنے چھوٹے سے گھر میں اقامت گزیں تھے۔ میں ان کی چپقلش میں کبھی نہیں پڑا، اس لیے موصوف مجھ سے ہمیشہ راضی رہے۔ بالخصوص اتوار کے روز بہرِ ملاقات غریب خانہ پر آتے۔ اکثر دوپہر کو ماحضر تناول کرتے۔
ایک دن باتوں باتوں میں جب حیرت بن واحد کو معلوم ہوا کہ راقم اپنی اہلیہ، بھانجی، بھائی داماد اور شیر خوار نواسے کے ہمراہ خواجہ اجمیری کی درگاہ کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھ چکا ہے تو جھٹ سے بیگ (Bag) سے (ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے) اپنا لیٹر پیڈ (Letter pad) نکالا اور درگاہ اجمیر کے سجادہ نشین کے نام ایک تعارفی و سفارشی رقعہ قلم برداشتہ لکھ کر مجھے عنایت کر دیا۔
حیرت بن واحد کی ایک پہچان یہ بھی تھی کہ وہ محفلوں میں اپنی پہنچ اور اپنے اثر میں رسوخ کا ذکر کرنا بھی نہ بھولتے تھے لیکن ان کے بلند بانگ دعوؤں کو بالعموم زبانی جمع خرچ اور لن ترانی پر محمول کیا جاتا تھا۔ چنانچہ میں نے بھی ان کے عنایت کردہ رقعہ کو خاطر میں نہ لا کر اپنے سوٹ کیس کے کسی کونے میں رکھ کر بھلا دیا۔ اجمیر پہنچ کر سب سے پہلے میں نے درگاہ شریف کے بلند بالا ہوٹل (مسافرخانہ) میں کمرے کی فراہمی کے لیے سو سو جتن کیے، یہاں تک کہ مٹھی گرم کرنے کی پیش کش بھی کام نہ آئی۔ چار و ناچار دو عدد رکشوں پر چاروں نفوس سوار ہوئے اور قرب و جوار کے ہوٹلوں میں کمرے کے لیے تادیر سرگرم و سرگرداں رہے مگر ہر جگہ مایوسی ہاتھ لگی۔ تھک ہار کر بیٹھ رہنے سے پہلے ایک رکشہ پُلر نے رائے دی کہ آس پاس کے بعض گھروں میں بھی جھانک لیجیے، اکثر مالکان شرفاء کو اپنی شرطوں پر ٹھہرا لیتے ہیں۔ رکشے ابھی نامعلوم گھروں کی طرف مڑے ہی تھے کہ معاً مجھے حیرت بن واحد کے سفارشی رقعے کا خیال آگیا جو میرے سوٹ کیس میں دبکا ہوا تھا۔ گویا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا۔ رقعے کے بھروسے پر میں نے سابق سجادہ نشیں (نام یاد نہیں رہا) کی قیام گاہ کی طرف رکشوں کا رخ پھروا دیا۔ موصوف اس وقت معطل (Suspend) تھے اور درگاہ شریف کے صدر دروازہ سے ذرا ہٹ کر ایک قدیم اور خستہ حال مکان میں مقیم تھے۔ حیرت بن واحد کا رقعہ بھجواتے ہی سب کو اندر بلوا لیا۔ موصوف نے از راہِ خلوص مجھ سے معانقہ کیا۔ شفقت اور مہربانی سے پیش آئے، تواضع کی۔ حیرت بن واحد کا حال احوال دریافت کیا۔ اس کے بعد فرمایا کہیے، آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ یہ تو ” خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے“ والی بات تھی۔ فوراً حرفِ مدعا زبان پر آگیا۔ جواباً موصوف نے پاس ہی رکھے ٹیلی فون سے درگاہ شریف کے ہوٹل ( مسافر خانہ) کے بلنگ کلرک کو میرا نام نوٹ کرایا اور ایک اچھا سا کمرہ فی الفور مہیا کرانے کی ہدایت فرمائی۔ جب بلنگ کاؤنٹر پر پہنچ کر بلنگ بابو کو میں نے اپنا نام بتایا تو وہ مجھے دیکھ کر بھونچکا سا رہ گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں وہی شخص ہوں جو ابھی ڈھائی تین گھنٹے قبل دامے، درمے، قدمے سخنے اس کی خدمت میں حاضر تھا۔ بہرحال کمرہ فی الفور بک ہوا، ہوٹل کے خادم نے ادب کے ساتھ ہمارا سامانِ سفر بالائی منزل کے ایک کشادہ کمرے میں پہنچایا، کمرے کی صفائی ستھرائی کی گئی، ملگجے گدّوں کی جگہ اُجلے اُجلے گدّے لا کر ڈالے گئے۔ پانی کا مٹکا بدلا گیا، صابن، تولیہ، بالٹی، مگ، الغرض واپسی کی گھڑی تک ہوٹل کے کارکنان کی خصوصی خدمات اور مراعات حاصل رہیں۔
واقعی حیرت بن واحد کا سفارشی رقعہ میرے لیے الہ دین کا چراغ ثابت ہوا۔ جس کے لیے میں ان کا قائل بھی ہوا اور تہِ دل سے ممنون بھی۔ لیکن بڑھاپے میں دوسری شادی رچانا حیرت بن واحد کو راس نہ آیا۔ تنگ حالی کے علاوہ ان کے کھردرے مزاج سے ازدواجی رشتے میں خراشیں آتی گئیں۔ درمیان میں وہ علیل بھی رہنے لگے تھے۔ بہتر علاج و معالجہ کی استطاعت نہ تھی، آخر کار نحیف و نزار ہو کر لقمۂ اجل بن گئے۔
(معروف شاعر غلام مرتضیٰ راہی کی خود نوشت راہی کی سرگزشت سے اقتباس)


