مولانا ظفر علی خان میرے پسندیدہ شاعروں میں تھے اور ہیں۔ میں نے شورش سے مولانا کے ساتھ اپنی ملاقات کی خواہش کا ذکر کیا تو شورش مجھے ایک دن اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مولانا ظفر علی خان میکلوڈ روڈ پر میسرز عطر چند کپور اینڈ سنز کے بزنس سنٹر اور مطبع کے اوپر کی منزل میں رہتے تھے۔
وہاں پہنچتے ہی شورش نے بہت اچھے لفظوں میں مولانا صاحب سے میرا تعارف کرایا۔ مولانا نے والد محترم کی خیریت کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ حال ہی میں محروم صاحب کی ایک غزل ہم نے زمیندار میں شائع کی تھی۔ بہت اچھی غزل تھی۔ میں نے کہا، جی ہاں آپ نے اس غزل کے شروع میں چند تعریفی جملے بھی لکھے تھے۔ انھوں نے تائید کی اور فرمایا آپ کو اُس غزل کا ایک آدھ شعر یاد ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے ارشاد کیا کہ اس غزل کے دو ایک شعر میں انھیں سناؤں۔ میں نے مندرجہ ذیل دو اشعار انھیں سنائے
حسیں ہے وہی جس کی سیرت حسیں ہے
وہ ظاہر ہی کیا جس کا باطن نہیں ہے
اڑے لاکھ اوجِ فلک پر یہ انساں
مقام آخرِ کار زیرِ زمیں ہے
اُنھوں نے ہامی بھری اور فرمایا کہ یہی غزل تھی۔
اس کے بعد مولانا صاحب اور شورش نے سیاسی امور پر آپس میں بات چیت شروع کر دی۔ میں خاموشی سے سنتا رہا۔ مجھے بہت دیر خاموش دیکھ کر مولانا نے فرمایا کہ اس موضوع پر آپ بھی کچھ کہیے۔ میں نے عرض کیا جناب "زمیندار” باقاعدہ والد صاحب کے نام آپ بھجواتے ہیں۔ میں اُس میں ہر ہفتے آپ کی نظم اور سالک صاحب کے افکار و حوادث پڑھتا ہوں۔ سیاسی خبروں پر نظر ہی ڈالتا ہوں۔ سیاست میرا موضوع نہیں ہے لیکن کچھ دن سے سیاسی موضوع پر ایک بات آپ سے پوچھنے کا آرزو مند ہوں۔ اجازت ہو تو عرض کروں۔ اُنھوں نے اجازت دے دی اور میں نے سوال کیا کہ:
مہاتما گاندھی کی تعریف میں آپ نے بہت کچھ لکھا ہے۔ آپ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے علاوہ غالبا کانگریس ورکنگ کمیٹی کے بھی رکن رہے۔ اور تھوڑی مدت قبل آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جلسے میں جب آپ نے فرمایا کہ نماز کا وقت ہے، جلسہ وقتِ نماز کے لیے ملتوی کر دیا جائے اور گاندھی جی نے کہا کہ جو حضرات نماز پڑھنے کے لیے جانا چاہتے ہیں وہ جائیں، ہم اُن کی غیر حاضری میں کسی اہم مسئلے کو نہیں اُٹھائیں گے، چھوٹے موٹے مسائل جو متنازع فیہ نہیں ہوں گے، اُن سے نپٹ لیں گے تو آپ نے جلسے کو ملتوی کرنے پر زور دیا اور گاندھی جی کے یہ کہنے پر کہ شقیں بہت زیادہ ہیں، جلسے کا التواء مناسب نہیں ہوگا تو آپ خفا ہو کر اٹھ گئے اور ہمیشہ کے لیے کانگریس سے الگ ہو گئے۔ اس ذراسی بات پر آپ نے اس قدر اہم فیصلہ کیوں لے لیا۔
مولانا نے فرمایا کہ میں جب اٹھ کے چلنے لگا تو میرا خیال یہ تھا کہ گاندھی جی آواز دے کے مجھے روک لیں گے اور میں رک جاؤں گا۔ لیکن میرے اٹھ کے چلنے کے باوجود گاندھی جی نے مجھے نہیں روکا۔ میں ہر قدم پر اسی اُمید میں رہا کہ گاندھی جی مجھے آواز دیں کہ مولانا آپ واپس آجائیے، اٹھ کے نہ جائیے لیکن اُن کی آواز نہ آئی۔ آخر میں مین گیٹ تک پہنچ گیا اور جب کوئی آواز نہ آئی اور میں نے قدم مین گیٹ سے باہر نکال دیا تو طے کر لیا کہ اب کانگریس میں واپس نہیں جاؤں گا۔ اسی فیصلے پر میں آج تک قائم ہوں۔
میں یہ جواب سن کے سناٹے میں آگیا کہ اتنی سی بات کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ کا رخ ہی بدل گیا۔ شورش نے مجھے سنانے کے عالم میں دیکھ کے فوراً یہ جملہ کہا کہ تم تو ایسے خاموش ہو گئے ہو جیسے تمھیں سانپ سونگھ گیا ہو۔ یہ تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ ‘زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد بنے بیٹھے ہو۔ سیاست میں ایسی باتیں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن میرے لیے یہ بات آج بھی، جب کہ اسے سنے زمانہ ہو گیا ہے حیرت کا باعث ہے۔
(جگن ناتھ آزاد کی یادوں اور شخصی خاکوں پر مبنی کتاب کس دیس بستیاں ہیں سے انتخاب)


