قیصری بیگم کی خود نوشت بعنوان "کتابِ زندگی” مصنف کے رواں اور خوب صورت طرزِ تحریر کے ساتھ کئی دل چسپ اور خوش گوار واقعات ہمیں سناتی ہے۔ قیصری بیگم مولوی نذیر احمد دہلوی کی نواسی تھیں اور انہی کی طرح ہی بامحاورہ زبان لکھتی تھیں۔ وہ اپنے دور کی ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ لیکن اسکول نہیں گئی تھیں بلکہ ان کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی تھی۔ انھوں نے عربی، فارسی اور انگریزی سیکھی تھی۔ کم عمری میں شاعری کرنے لگی تھیں اور نثر بھی لکھتی تھیں۔
ان کی خود نوشت سوانحِ حیات سے ہم ایک اقتباس نقل کررہے ہیں جس میں انھوں نے اپنے خانۂ کعبہ کی زیارت کا واقعہ بیان کیا ہے جو ان کی زندگی کا حاصل تھا۔
میں نے دریافت کیا کہ کعبہ شریف کا دروازہ کبھی کھلتا بھی ہے؟
معلوم ہوا کہ ہاں، کھلتا تو ہے لیکن اس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اس کو داخلی کہتے ہیں۔ اس کا کچھ ٹکٹ لے کر اندر داخلی کی اجازت دیتے ہیں۔ خدا کی شان، اس کی قدرت، اس کا احسان کہ میں حرم شریف میں بیٹھی تھی کہ کسی اللہ کے بندے نے مجھے آکر اطلاع دی ’داخلی ہو رہی ہے۔‘ میں تو شاد شاد ہوگئی۔ خدا کی قدرت سے اس وقت میرے پاس روپے بھی تھے۔ میں دوڑی۔ دروازہ اس وقت کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہونے کے واسطے سیڑھی لگی ہوئی تھی۔ دروازے کے دونوں طرف دو شخص پہرے دار نہایت شان دار تشریف رکھتے تھے۔ میں نے ان کو تین روپے دے دیے۔ انھوں نے اجازت دے دی۔ اللہ کی رحمت سے داخلی نصیب ہوئی۔
سارا کعبہ شریف اندر سے اس قدر اعلیٰ درجے کی خوشبوؤں سے مہک رہا تھا کہ دماغ کئی دن اس سے معطر رہا۔ سارے دور و دیوار، فرش سنگِ مرمر کی طرح سفید پتھروں کا تھا اور اس کے در بھی سفید براق اور معطر۔ ہر طرف ہر سمت آیاتِ قرآنی کھدی ہوئی ہیں۔ ایک معلّم صاحب نے اندر نفل پڑھنے کو فرمایا۔
میں نے خدا کے فضل سے نفل پڑھے۔ خوب در و دیوار کو، ستونوں کو چوما، آنکھوں سے مَلتی رہی۔ خوب دل کی حسرت نکالنے کا موقع اللہ نے دیا۔ اپنے چہرے پر، سینے پر، سب جسم پر ہاتھ پھیر پھیر کر مَلے۔ دل شاد شاد تھا۔ کسی نے جلدی بھی نہ کی کہ باہر آجاتی۔ یہ داخلی جنت میں داخلی ہے۔ اللہ ہر مسلمان مرد و عورت کو نصیب کرے۔(آمین)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


