ہفتہ, مئی 16, 2026
اشتہار

چور دلاور ہو گئے!

اشتہار

حیرت انگیز

ہم حیدرآباد (دکن) کی کچّی اور تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے اُس علاقے میں جا پہنچے جہاں ایک پرانا قبرستان تھا۔ ہر طرف بہت سے چھوٹے بڑے مقبرے تھے، کچھ ڈھے گئے تھے۔ اور کچھ مقبروں کی پیٹھ قدامت کے بوجھ تلے جھک رہی تھی۔ بالآخر ہم ایک چھوٹے سے سالم اور ثابت مقبرے میں داخل ہوئے۔ درمیان میں کسی دکنی شہزادی کی قبر تھی جس پر سبز ریشمی چادر پڑی تھی اور اطراف میں دیواروں کے ساتھ ساتھ پرانی کتابیں چنی تھیں۔ یہ سید محمد عبد الرزاق عرشی صاحب کا کتب خانہ تھا۔

مقبرہ بھی قدیم ہے، کتابیں بھی پرانی ہیں اور خود عرشی صاحب بھی ضعیف ہیں۔ ان سے گفتگو ہوئی تو عرشی صاحب کی ذاتِ گرامی اور شخصیت اس کتب خانے کی سب سے دل چسپ کتاب ثابت ہوئی۔

عبد الرزاق عرشی صاحب کو کتابوں سے والہانہ عشق تھا۔ چنانچہ عمر بھر کابیں جمع کرتے رہے۔ پڑھتے رہے، لکھتے رہے اور کتابوں کی تلاش میں سرگرداں لوگوں کی مدد کرتے رہے۔ انہوں نے دکن کی سرزمین پر تقریباً تین چوتھائی صدی گزاری ہے۔ انہوں نے زمانے کے کتنے ہی سیلاب آتے اور جاتے دیکھے ہیں، گھر بنتے اور اجڑتے دیکھتے ہیں۔ کتب خانوں کی الماریوں میں سجتی ہوئی کتابیں دیکھی ہیں۔ پھر ان ہی کتابوں کو بازاروں میں اونے پونے فروخت ہوتے دیکھا ہے۔

عرشی صاحب کتابوں اور کتب خانوں کی داستانیں سنا رہے تھے۔ میں شہزادی کی قبر پر کہنی ٹیکے بیٹھا تھا اور بڑے انہماک سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ بتا رہے تھے کہ دکن میں کسی زمانے میں کتابوں کے ذخیروں کی کیا آن بان تھی۔

"ہر گھر میں ذخیرہ ہوتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس قدر امراء اور رؤسا ہوتے تھے، چاہے وہ علم کی صلاحیت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں لیکن بحیثیت امیر ہونے کے ان کے لئے تین چیزیں لازمی تھیں۔ ایک سلاح خانہ، دوسرا کتب خانہ اور تیسرا جواہر خانہ۔”

کہنے لگے کہ کتنے ہی امیر اور نواب تو ایسے تھے کہ ان کے منشی کتابیں پڑھ کر انہیں بتا دیا کرتے تھے کہ ان میں کیا لکھا ہے، اس کے بعد یہ امرا اور رؤسا محفلوں اور مجلسوں میں بیٹھ کر ان کتابوں کی باتیں کچھ یوں کرتے تھے جیسے خود ان کے گھر میں تصنیف کی گئی ہوں۔ مگر خیر وہ زمانہ بھی گیا اور وہ طور طریقے بھی رخصت ہوئے۔

میں نے عبد الرزاق عرشی صاحب سے پوچھا کہ اب اس نئے دور میں حیدر آباد میں کتنے کتب خانے ہیں؟ انہوں نے کہا۔ "حیدر آباد میں بیسیوں کتب خانے ہیں اور سب سے بڑا کتب خانہ تو اسٹیٹ لائبریری ہے۔ اس کو نواب عماد الملک، محسن الملک اور چراغ علی، یہ لوگ مل کر غالباً تیرہ سو ہجری میں قائم کیے۔ اس کی نظامت کے لیے مولانا علی حیدر صاحب طباطبائی کو وہاں مہتمم کی خدمت پر فائز کیا گیا۔ عماد الملک محکمۂ تعلیم سے خریداریٔ کتب کے لیے پانچ ہزار روپے کی گرانٹ اُس زمانے میں دیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ جب ہمارا دور آیا اور کتب خانہ آصفیہ جب نئے پل کے پاس بنا تو نواب بہادر یار جنگ نے، چونکہ صدرِ کتب خانہ تھے، اعلیٰ حضرت سے کہہ کر 75 ہزار روپے تک اس کا گرانٹ منظور کرائے جس میں پچاس ہزار روپے صرف اردو، عربی، فارسی کتب کے لیے اور 25 ہزار روپے انگریزی کتب کے لیے مقرر کیے گئے تھے۔ کتابوں کی وہ خریداری برابر جاری رہی۔ جس قدر بھی حیدر آباد کے نادر کتب خانے تھے وہ نواب بہادر یار جنگ کے توسط سے کتب خانہ آصفیہ کے لیے خریدے جاتے تھے۔”

تو یہ شان تھی کتب خانۂ آصفیہ کی۔ 1891ء میں یہ آصف جاہی دور کا یادگار مینار بن کر ابھرا۔ حکومتِ آصفیہ کا عوامی کتب خانہ قرار پایا۔ نواب عماد الملک، مولوی چراغ علی اور مولوی محب حسین جیسے ذی علم حضرات کے ذاتی کتب خانے اٹھ کر اس عظیم الشان لائبریری میں آگئے، دیکھتے ہی دیکھتے اس میں دو لاکھ کتابیں جمع ہو گئیں جن میں سولہ ہزار سے زیادہ قلمی نسخے تھے اور قلمی نسخے بھی ایسے کہ ان میں قطب شاہی، عادل شاہی اور آصف جاہی دور کے ادبیوں اور شاعروں کی تصانیف بھری پڑی تھیں۔ غالب اور میر کی تحریریں بھی ملتی تھیں اور عربی، فارسی اور اردو کا کوئی موضوع ایسا نہ تھا جس کی کتابیں کتب خانہ آصفیہ کی الماریوں میں موتی کی طرح جھلملاتی نہ ہوں۔

آج بھی اس کتب خانے کی شان دار عمارت کے گنبد اور محرابیں سامنے بہتے ہوئے دریا میں اپنا عکس دیکھا کرتے ہیں۔ وہ نہیں بدلے البتہ ان کا نام بدل گیا۔ آصف جاہی دور کی یہ یادگار اب آندھرا پردیش کی اسٹیٹ سنٹرل لائبریری کہلاتی ہے۔

میں وہاں گیا تو ذہن کو ایک دھکا سا لگا۔ وہ یقیناً بہت بڑا کتب خانہ تھا مگر نئے حالات نے اُسے ویسا نہ رکھا جیسا میں نے سوچا تھا۔ آندھرا پردیش اب پانچ زبانوں کا سنگم ہے اور چونکہ یہ ریاست کی مرکزی لائبریری ہے، اس لیے اس میں پانچوں کا بسیرا ہے۔ میری نگاہیں اردو، فارسی اور عربی کتابیں تلاش کر رہی تھیں، میں نے کتب خانے کے عملے سے کہا کہ کچھ کتابیں لا کر دکھا دیجیے۔ انہوں نے کہا کہ کتابیں باہر لانے کی ضرورت نہیں نئے رواجوں کے مطابق آپ خود کتابوں کی الماریوں کے پاس جا سکتے ہیں اور جو کتاب چاہیں نکال کر دیکھ سکتے ہیں۔ اور پھر میری درخواست پر انہوں نے مجھے اُس بڑے کمرے میں پہنچا دیا جہاں لوہے کی قدیم الماریوں میں اردو، فارسی اور عربی کی کتابیں چنی ہوئی تھیں۔ کہیں دور ریلوے اسٹیشنوں کے غسل خانے جیسا بلب ٹمٹا رہا تھا اور کتابیں کچھ اس طرح سو رہی تھیں کہ میں ان کے سرہانے بولا تو اس بات کا بہت خیال رکھا کہ آہستہ بولوں۔

میں نے کتب خانے کے ایک نگران، جناب عبد القادر صاحب سے پوچھا کہ یہ کسمپرسی کا عالم کیوں ہے، ایک یتیمی سی کیوں نظر آتی ہے، تو کہنے لگے۔

"یہاں عربی، فارسی اور اردو کی بہت پرانی اور نایاب کتابیں موجود ہیں۔ بعض تو دو دو سو سال پرانی ہیں لیکن یہاں عربی، فارسی کا کوئی قابل آدمی نہیں ہے کہ اس شعبے کی نگہداشت کرے۔ حکومت چاہتی ہے کہ کوئی تقرر ہو لیکن عربی جاننے والے لوگ آج کل مغربی ملکوں کو آسانی سے چلے جا رہے ہیں جہاں زیادہ تنخواہیں ملتی ہیں۔ یہاں سرکاری تنخواہیں کم ہیں، اس واسطے اس کا صحیح انتظام نہیں ہو سکا۔”

یہ تو ہوا چَھپی ہوئی کتابوں کا احوال، وہ جو ہاتھ سے لکھی ہوئی ہزاروں کتابیں تھیں جن کی وجہ سے کتب خانہ آصفیہ مشہور تھا۔ وہ کیا ہوئیں؟ پتہ چلا کہ وہ اسٹیٹ آرکائیوز میں منتقل کر دی گئی ہیں۔

مگر کیوں؟

کسی نے کہا کہ اچھا ہی ہوا۔ وہ بہت ہی نادر اور بیش قیمت مخطوطے تھے۔ یہاں ان کی حفاظت اور دیکھ بھال ممکن نہ تھی لہٰذا انہیں اب اسٹیٹ آرکائیوز کی لائبریری میں محفوظ کر دیا گیا ہے جہاں وہ تحقیق کرنے والوں کو دستیاب ہیں۔

تب پتہ چلا کہ کتب خانہ آصفیہ عرف اسٹیٹ سنٹرل لائبریری کی کتابوں پر سب سے بڑا ظلم دیمک، کیڑوں، خاک دھول، اندھیرے اور سیلن نے نہیں بلکہ ہم نے، آپ نے، پڑھنے والوں نے محققوں نے اور طالبِ علموں نے کیا۔ غضب یہ ہوا کہ الماریاں پڑھنے والوں کے لیے کھول دی گئیں۔ قارئین کو کتابوں تک رسائی کی اجازت دے دی گئی۔ پہلے تو لوگ کاغذ قلم لے کر آتے تھے اور نوٹس بنا کر گھر لے جاتے تھے۔ اب وہ بلیڈ اور قینچیاں لے کر آنے لگے اور پرانی پرانی نایاب کتابوں کے تمام مطلوبہ صفحے کاٹ کاٹ کر لے جانے لگے۔ بعض لوگ اپنے ظرف کے مطابق مطلوبہ صفحے نہیں بلکہ پوری پوری کتابیں لے گئے۔

(معروف براڈ کاسٹر، صحافی، ادیب، محقق رضا علی عابدی کی کتاب کتب خانہ سے اقتباس)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں