پیر, جنوری 19, 2026
اشتہار

مارکیز سی اقبال خورشید کے افسانوں کی بستی

اشتہار

حیرت انگیز

اردو فکشن میں موت کی پراسراریت کو سمجھنے کے کئی جتن ہو چکے ہیں، قرۃ العین حیدر کے ناولوں میں ہنستے کھیلتے کرداروں کی اچانک موت ہو، یا اب جدید اردو فکشن تک آتے آتے خالد جاوید کی موت کی کتاب، ہمارا فکشن نگار اس تصور سے کسی نہ کسی تخلیقی سطح ہر جھوجھتا نظر آتا ہے۔ میں جس افسانہ نویس اقبال خورشید کو جانتا ہوں، وہ اپنے تخلیقی منہج میں اس تصور کا ہمیشہ سے اسیر رہا ہے، اور اس نے اپنے تخلیقی جملوں میں آدمی کے دھواں ہوتے وجود کو پکڑنے کی سعی کی ہے۔

میرے نزدیک، جب کہ اب تک دو ناولٹ) تکون کی چوتھی جہت/ گرد کا طوفان ( بھی چھپ چکے ہیں، اقبال خورشید افسانہ نویس کے طور پر اپنے فن کی اب تک کی بہترین صورت میں جلوہ گر ہوا ہے۔ ان افسانوں کے موضوعات کراچی کے المیوں، اس میں آخری سانسیں لیتی زندگی، اور اس میں سرسراتی موت کے گرد گھومتے ہیں۔

ان میں ”چاند ماموں ” کے ماضی سے ”من و تو” کے عہد حاضر تک مخصوص اسلوب میں شہر پُر ماجرا کی پینٹنگز جیسی کہانیاں ملتی ہیں۔ اس اسلوب میں زبان کا تخلیقی اور کہیں تجرباتی استعمال ملتا ہے، کہیں زبان کی کاٹ کو کام میں لایا گیا ہے، کہیں نغمگی کو، کہیں یہ ندی سی ہے کہیں سیلابی ریلے کی طرح۔

ان افسانوں میں ہمیں دل پذیر نثر تو ملتی ہے، لیکن مصنف شاعرانہ نثر کی حد میں داخل ہونے والی ناگواریت کے احساس سے ہمیں بچاتا ہے۔ جیسا کہ شروع میں مذکور ہوا، بیش تر افسانوں کا موضوع المیہ ہے، یا چند کا طربیہ، مگر ان کی ٹون میں ایک خاص نوع کا استہزائیہ ہے، کہیں یہ مزاح کا رنگ اختیار کر لیتا ہے، کہیں مضحک کا اور کہیں کہیں تضحیک کا۔ حالات کے اسیر جیتے جاگتے کرداروں کی تضحیک۔ اس ٹون اور زبان کے اس استعمال کے تناظر میں یہ افسانے سماج پر ایک گہرے طنز میں تبدیل ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ ادب کے تخلیقی ٹول کے ساتھ سماج پر یہ طنز ادب جتنا ہی قدیم عمل ہے۔ اقبال خورشید نے اس عمل کو اپنا اسلوب دینے کی ایک نمایاں کوشش کی ہے، جس میں مبالغہ آرائی اور بے پروائی کا ایک دل چسپ، منفرد امتزاج ملتا ہے۔

جیسے کہیں کہیں موت جیسے واقعات کو سہولت سے، بغیر چونکائے توجہ دلاؤ نوٹس کی طرح بیان کیا گیا ہے۔ اور کہیں ایسے ان ہونے واقعات ہیں جو لگتا ہے کہ معمولات زندگی کی طرح ہیں، بالکل مارکیز کی میجیکل رئیلزم کے مخصوص سگنیچر میں۔ لیکن اس عنصر کو اقبال خورشید نے فکشن کے اندر ہی سے ابھارا ہے، اور اپنے اسلوب میں۔ اس فکشن میں آپ کو ہوا کے چلنے اور پردے لہرانے میں بھی ایک طلسمی رنگ جھلکتا ملے گا۔

مارکیز ہی کے مانند اقبال خورشید نے بھی افسانوں کی ایک بستی بسا لی ہے، جہاں اس کی کہانیاں جنم لیتی ہیں، جہاں ہم مکو دادا، اسٹیج ڈانسر اور دیگر کرداروں کو چلتا پھرتا دیکھتے ہیں۔ ان افسانوں میں روایتی تکنیک کے ساتھ ساتھ جدید تناظر بھی ملتا ہے، پلاٹ کی شکست و ریخت، فارم کا تجربہ اور زبان کا تخلیقی استعمال؛ یہ تنوع تو نظر آتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ تمام افسانے کچلے طبقات سے تعلق رکھنے والے کرداروں کا نوحہ بھی ہیں۔ چناں چہ ان افسانوں میں جو ایک ہیئت متشکل ہوتی ہے، وہ اپنی نوع میں پروگریسو ہے۔

اسے ہم اس کے انٹرٹیکسچوئلٹی کے پہلو میں بھی دیکھ سکتے ہیں، کہ کس طرح متن میں اس زمانے کے واقعات کا، گزرتے ہوئے زمانے کے ریفرنسز کا، کتابوں، فلموں کا ذکر آتا ہے،اور کس طرح یہ سب متن میں معنی سازی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے”من و تو“ میں ڈیل کارنیگی، چھنال میں امیتابھ بچن اور ریکھا کا پوسٹر، چاند ماموں میں مارشل لا کا حوالہ، دیگر افسانوں میں مونٹی کرسٹو کا نواب، کبڑا عاشق، بہاؤ اور دیگر کا ذکر۔ ان افسانوں سے متعلق اگر کوئی ایک قابل اعتماد جملہ کہا جائے تو وہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ افسانے قابل مطالعہ، قابل قدر ہیں۔

یہ کتاب سنگ میل پبلی کیشنز جیسے معتبر ادارے سے شایع ہوئی ہے۔ اس کا ٹائٹل معروف ڈیزائنر، سید شہزاد مسعود نے بنایا ہے، جو جمالیاتی ذوق کا آئینہ دار ہے۔ ساتھ ہی ٹائٹل اور کتاب کی پیش کش میں بھی تازگی ہے۔

+ posts

رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔

اہم ترین

رفیع اللہ میاں
رفیع اللہ میاں
رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔

مزید خبریں