The news is by your side.

Advertisement

کھوکھلے انڈوں پر گھوڑے کی نعل کندہ کرنے کا حیرت انگیز فن

صدیوں قبل جب جزائر بلقان میں واقع ملک بوسنیا میں کان کنی اور لوہا سازی ترقی پانے لگی تو اس وقت کھوکھلے انڈوں پر گھوڑے کی نعل کندہ کرنے کا فن بھی رواج پاتا چلا گیا۔

یہ فن بوسنیا کے ایک گاؤں کریزو میں اپنے عروج پر تھا اور ایک وقت تھا کہ اسے گاؤں کی ایک روایتی پہچان کی حیثیت حاصل تھی۔

تاہم اس فن کے ماہر افراد اب کم ہی رہ گئے ہیں اور تجپن بیلٹک انہی میں سے ایک ہیں۔

انہتر سالہ اس فنکار نے یہ فن اپنی ادھیڑ عمری میں سیکھا تھا جب وہ اپنے پیشے معلمی سے ریٹائر ہوگئے۔ تاہم بہت جلد ان کا شمار اس فن کے ماہرین میں ہونے لگا۔

وہ کہتے ہیں، ’انڈا نئی زندگی کی شروعات کی علامت ہے جبکہ گھوڑے کی نعل خوشیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے‘۔

گویا گھوڑے کی نعل سے کندہ کیے گئے انڈے گھروں میں رکھنا خوش بختی اور نیک شگونی کی علامت ہے۔

انڈوں پر نعل سازی کرنے کا یہ فن بلقان کے دیگر ممالک جیسے رومانیہ اور ہنگری میں بھی رائج ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ایک انڈے پر نعل نصب کرنے میں ایک گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ ایسٹر کے موقع پر ان انڈوں کی فروخت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ان انڈوں پر صرف گھوڑے کی نعل ہی نہیں بلکہ صلیب یا دل وغیرہ بھی بنائے جاتے ہیں جسے مقامی افراد و سیاح نہایت شوق سے خریدتے ہیں۔

اس فنکار کا کہنا ہے، ’کسی بھی گاؤں کے زندہ رہنے سے زیادہ وہاں کی روایات کا زندہ رہنا اہم ہے‘۔

وہ اپنے اس فن کو اپنی آئندہ نسلوں میں بھی منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس فن کا سفر مزید کئی صدیوں تک جاری رہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں