The news is by your side.

Advertisement

مایہ ناز باکسر محمد علی کو مداحوں سے بچھڑے 4 برس بیت گئے

دنیا کے ممتاز باکسر محمد علی کو اپنے مداحوں سے بچھڑے آج  چار  برس گزر گئے، محمد علی ایک لیجنڈ باکسر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم شخصیت اور عزم و ہمت کی مثال تھے۔

چاربرس قبل آج ہی کے روز  سانس لینے میں دشواری کے باعث انہیں اسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں 74 سالہ سابق امریکی باکسر محمد علی دوران علاج اپنے اہل خانہ اور مداحوں غمگین کرگئے۔

خیال رہے کہ لیجنڈ باکسر محمد علی موت سے قبل 3 دہائیوں سے پارکنسن سمیت متعدد امراض کا شکار تھے، محمد علی لیجنڈ باکسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک درد مند انسان بھی تھے اور معاشرے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سراپا احتجاج رہتے تھے۔

سنہ 1959 سے 1975 تک لڑی جانے والی ویت جنگ میں امریکی افواج میں شامل کرنے کے لیے محمد علی سے عہد نامے پر دستخط لینے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کردیا، جس کے باعث امریکی حکومت نے ان سے اولمپک چیمپئن شپ کے اعزازات واپس لے کر 5 برس کے لیے جیل منتقل کردیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ذرائع کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے لیجنڈ باکسر کی گرفتاری پر بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج کو مد نظر رکھتے ہوئے محمد علی کی سزا کو ختم کردیا تھا۔

محمد علی زندگی کو ایک مثبت نظر سے دیکھنے کے عادی تھے۔ آج ان کی برسی کے موقع پر ان کے زریں خیالات و اقوال یقیناً آپ کی زندگی بدلنے میں مددگار ثابت ہوسکیں گے۔

 ان کا کہنا تھا کہ دوستی ایسی چیز نہیں جو آپ کسی تعلیمی ادارے میں سیکھیں، بلکہ اگر آپ نے دوستی کے صحیح معنی نہیں سیکھے، تو آپ نے کچھ نہیں سیکھا۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ مجھے اپنی ٹریننگ کا ہر لمحہ برا لگتا تھا، لیکن میں نے سوچا کہ مجھے رکنا نہیں چاہیئے، میں ابھی تکلیف اٹھاؤں گا تو ساری زندگی چیمپئن کہلاؤں گا۔

وہ کہتے تھے کہ جو شخص مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا وہ کبھی کچھ حاصل نہیں کر سکتا, اگر تم مجھے ہرانے کا خواب بھی دیکھو، تو بہتر ہے کہ تم جاگ جاؤ اور اپنے اس خواب کی معافی مانگو۔

لیجنڈ باکسر نے ایک موقع پر کہا کہ قوم آپس میں جنگیں نقشوں میں تبدیلی لانے کے لیے لڑتی ہیں لیکن غربت سے لڑی جانے والی جنگ زندگیوں میں تبدیلی لاتی ہے۔ میں نے زندگی میں بہت سی غلطیاں کیں، لیکن اگر میں اپنی زندگی میں کسی ایک شخص کی زندگی بھی بہتر کرنے میں کامیاب رہا تو میری زندگی رائیگاں نہیں گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو شخص خواب نہیں دیکھتا، وہ کبھی بھی اونچا نہیں اڑ سکتا، کاش کہ لوگ دوسروں سے بھی ویسے ہی محبت کرتے جیسے وہ مجھ سے کرتے ہیں، اگر وہ ایسا کریں تو دنیا بہت خوبصورت ہوجائے گی۔

ویت نام کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کرنے کے بعد محمد علی نے کہا، ’یہ مجھ سے کیوں توقع رکھتے ہیں کہ میں یونیفار پہن کر اپنے گھر سے 10 ہزار میل دور جاؤں، اور کالوں پر گولیاں اور بم برساؤں؟ یہ تو اپنے ہی ملک میں نیگرؤوں سے کتوں جیسا سلوک کرتے ہیں‘۔

محمد علی کا زندگی کے بارے میں خیال تھا کہ انسان کی  زندگی بہت چھوٹی ہے، ہم بہت جلدی بوڑھے ہوجاتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ یہ ایک احمقانہ بات ہے کہ ہم لوگوں سے نفرت کرنے میں اپنا وقت ضائع کردیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں