The news is by your side.

Advertisement

بلووہیل کی طرح ایک اور جان لیوا گیم سامنے آگیا، 11 سالہ بچہ پہلا شکار

روم : کمسن لڑکے نے بلووہیل گیم سے مشابہت رکھنے والے آن لائن گیم میں دیا گیا ٹاسک پورا کرنے کےلیے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل دنیا بھر میں بلو وہیل گیم سے خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا جسے کھیلنے والے اکثر بچے ٹاسک پورا کرنے کےلیے اپنی زندگیوں کو خاتمہ کررہے تھے۔

بلووہیل گیم کے اختتام کے بعد اسی جیسا ایک گیم ان دنوں خبروں کی زینت بن رہا ہے جس کا نام ’جوناتھن گیلنڈو‘ ہے اور اس گیم میں بھی بچوں کو بلو وہیل کی مختلف ٹاسک دئیے جاتے ہیں جیسے آدھی رات کو اٹھ کر ڈراونی فلم دیکھنا اور اس گیم کا آخری چیلنج یہ ہوتا ہے گیم کھیلنے والا شخص یا بچہ خود کو قتل کرے۔

اسی آن لائن گیم کو کھیلتے میں اٹلی میں ایک 11 سالہ بچے نے ٹاسک پورا کرنے کےلیے 10 منزل سے چھلانگ لگا اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے۔

خودکشی کرنے والے بچے نے اپنے والدین کے نام پیغام چھوڑا کہ ’ میں آپ دونوں سے بہت محبت کرتا ہوں لیکن مجھے جوناتھن گیلنڈو میں دیا گیا ٹاسک پورا کرنے کےلیے دسویں منزل چھلانگ لگانی ہوگی، جو مجھے کالا ہڈ پہنے ہوئے ایک شخص نے دیا ہے جس کی شکل آدھی انسان اور آدھی کتے جیسی ہے‘۔

واضح رہے کہ جوناتھن گیلنڈوں اسی کردار کا نام ہے جو گیم میں کالا ہڈ پہنا ہوا انسان اور کتے جیسی شکل کاانسان ہے۔

اس گیم میں بھی بلووہیل کی طرح 50 ٹاسک دیئے جاتے ہیں اور آخری ٹاسک خودکشی ہے۔

خیال رہے کہ 2015 میں شروع ہونے والے بلووہیل گیم نے دنیا بھر میں 130 نوجوانوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کیا تھا۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں