چین میں لڑکا 14 گھنٹے مسلسل ہوم ورک کرنے پر اسپتال پہنچ گیا۔
غیرملکی خبرساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین میں 11 سالہ لڑکے کو علاج کے لیے فوری طور پر اس وقت اسپتال لے جانا پڑ گیا جب سارا دن ہوم ورک کرنے پر اس کی طبیعت بگڑ گئی۔
گزشتہ دنوں جنوبی چین کے صوبے ہنان کے چانگشا سے تعلق رکھنے والے 11 سالہ لیانگلیانگ کو صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک بغیر کسی وقفے کے ہوم ورک کرنے کے بعد شدید علامات کا سامنا کرنا پڑا۔
رات 11 بجے کے قریب اسے سانس لینے میں دشواری، چکر آنا، سردرد محسوس ہونے لگا۔
ڈاکٹروں نے فوری طور پر اسے ہائپر وینٹیلیشن کی وجہ سے سانس کی بیماری کی تشخیص کی۔
چانگشا سینٹرل اسپتال کے مطابق اگست کے مہینے میں صرف بچوں کے ایمرجنسی وارڈ میں 30 سے زائد بچے انہی علامات کے ساتھ لائے گئے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات تعلیمی دباؤ، امتحانات کا خوف اور موبائل فون کا زیادہ استعمال ہیں۔
چانگشا سینٹرل اسپتال کے شعبہ اطفال کے ڈائریکٹر ژانگ ژاؤفو نے کہا کہ سنگین صورتوں میں یہ حالت جان لیوا ہو سکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



