شارک کے حملے سے بچانے والا کڑا -
The news is by your side.

Advertisement

شارک کے حملے سے بچانے والا کڑا

زیر آب جانے والے تیراکوں اور ڈائیونگ کرنے والے افراد کو سمندری جانداروں کی جانب سے نقصان پہنچنے یا حملے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

ان جانداروں میں سرفہرست شارک ہے جو انسانوں پر خطرناک حملہ کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔

ڈائیونگ کرنے والے افراد کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ زیر آب زخمی ہونے سے بچیں کیونکہ خون کا ایک معمولی قطرہ بھی اگر بہہ نکلا تو سینکڑوں میل دوری پر بھی موجود شارک اس کی بو پر دوڑی چلی آئے گی اور ان پر حملہ کردے گی۔

shark-5

لیکن ماہرین نے اب ایسا کڑا ایجاد کرلیا ہے جو اس خطرناک شارک کو ڈائیورز سے دور رکھے گا۔

یہ کڑا مقناطیسی لہریں خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سے نکلنے والی لہریں تیز روشنی کی صورت میں شارک کی آنکھوں پر پڑتی ہے جس سے وہ گھبرا کر دور ہوجاتی ہے۔

shark-4

ماہرین کے مطابق شارک کے زیادہ تر حملے گہرے سمندر میں ہوتے ہیں جہاں نسبتاً اندھیرا ہوتا ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ حملے کے لیے شارک انسانوں کو دیکھتے ہوئے حملہ کرنے کے بجائے ان کے جسم سے خارج ہونے والی لہروں کو محسوس کر کے اور ان کے ذریعہ سمت کا تعین کر کے حملہ کرسکتی ہے۔

ایسی صورت میں اندھیرے میں شارک کی آنکھوں میں تیز روشنی پڑنے سے اس کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور یہ طریقہ اس سے بچنے کے لیے نہایت کارگر ثابت ہوتا ہے۔

shark-3

ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر شارک صرف چیک کرنے کے لیے بھی اپنے قریب موجود شے کو کاٹ سکتی ہے کہ یہ کیا شے ہے۔ اگر اس چیز سے اسے کوئی خطرہ محسوس نہ ہو تو وہ اسے ویسے ہی چھوڑ کر واپس چلی جاتی ہے بصورت دیگر جارحانہ حملہ کردیتی ہے۔

اس کڑے کو تجرباتی مرحلے میں مختلف اجسام میں نصب کر کے سمندر میں چھوڑا گیا جہاں اس نے 10 مختلف اقسام کی شارک سے حفاظت فراہم کی۔ ان میں بل شارک بھی شامل تھی جو خطرناک ترین شارک سمجھی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: شارک جو 400 سال تک زندہ رہ سکتی ہے

اس ایجاد پر سمندری حیات کے تحفظ پر کام کرنے والے افراد نے تحفظات کا اظہار تو کیا ہے تاہم اس کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ بیک وقت انسانوں کی حفاظت اور شارک کے بچاؤ کے دو مختلف اقدامات پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں