The news is by your side.

Advertisement

برین ٹیومر کی ابتدائی علامات، بروقت تشخیص سے جان بچانا ممکن

کینسر ایک موذی مرض ہے جس کا علاج بھی انتہائی مہنگا اور تکلیف دہ ہوتا ہے اور بدقسمتی سے اس کا پتا بھی اس وقت چلتا ہے جب وہ خطرناک حد تک اپنی جڑیں قائم کرچکا ہوتا ہے۔

برین ٹیومر، کینسر کی ایک پیچیدہ شکل ہے جو جسم کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے اور آہستہ آہستہ جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ جاتا ہے۔

کینسر سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور دل کے دورے کے بعد کینسر موت کی دوسری بڑی وجہ بن کے سامنے آئی ہے اور میڈیکل سائنس اس موذی مرض کو ابتدائی مرحلے میں تشخیص کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

چنانچہ احتیاط اور پرہیز اس موذی مرض سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے اگر چند معمولی نوعیت کی علامتوں پر کڑی نظر رکھی جائے تو ممکن ہے کہ اس مرض کو پہلے مرحلے میں ہی پکڑلیا جائے۔


برین ٹیومر کی چند ابتدائی علامات


1- سر درد

سر درد کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اگر چند اور علامات کے ساتھ  مسلسل سر درد  رہے تو یہ برین ٹیومر کی نشانی ہو سکتی ہے چنانچہ فوری طور پر ٹیسٹ کروا کے تسلی کر لینی چاہیے۔

2-بے ہوشی کے دورے

اگر اچانک اور بغیر کسی وجہ کے غشی کے دورے پڑتے ہوں یا بے ہوشی جیسی حالت ہو جاتی ہو تو یہ بھی برین ٹیومر کی نشانی ہوسکتی ہے چنانچہ فوری طور پر کسی اچھے نیورولوجسٹ سے رابطہ کر کے اس پر بات کر لینی چاہیے۔

3- چکھنے، سونگھنے کی حس میں کمی

اچانک سے چکھنے، سونگھنے اور بھوک لگنے کی حس کا ختم ہوجا نا بھی برین ٹیومر کی نشانی ہو سکتی ہے اگر مریض بغیر حادثے کے چکھنے، سونگھنے اور سننے کی حس میں خرابی محسوس کریں تو اپنے معالج کو اس سے آگاہ کریں اور ضروری ہو تو کچھ ضروری ٹیسٹ کروالیں۔

4- قوتِ سماعت و بصارت میں کمی

بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اگر سننے یا دیکھنے میں دقت محسوس ہو یا کلی طور پر سماعت و بصارت چلی جائے تو اس کی ایک وجہ برین ٹیومر بھی ہو سکتی ہے۔

ایسی صورت میں برین ٹیومر دماغ کے اس حصے کو نقصان پہنچاتا ہے جو سماعت اور بصارت کو کنٹرول کرتے ہیں اور ٹیومر کے باعث اپنا کردار ادا کرنے محروم ہوجاتے ہیں۔

5- چہل قدمی یا توازن برقرار رکھنے میں دقت

اگر مریض چلنے میں دقت محسوس کرے یا کھڑے کھڑے توازن برقرار نہ رکھ سکے تو اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید دماغ کے اس حصے میں برین ٹیومر ہے۔

6- بولنے میں تکلیف کا سامنا 

برین ٹیومر کے اثرات دماغ کے ان حصوں پر ہوجائیں جو قوت گویائی کے لیے مخصوص ہوں تو ایسے میں مریض کی قوت گویائی ختم ہو جاتی ہے اور وہ الفاظ کی ادائیگی میں مشکل محسوس کرتا ہے اور زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔

6- فالج کے اثرات

چہرے کے ایک حصے کا بے حس ہوجانا یا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کا حرکت نہ کرنا فالج کی علامات ہیں اور فالج کی وجہ برین ٹیومر کا ہونا بھی ہو سکتا ہے اس لیے فالج کو بھی برین ٹیومر کی ایک علامت قرار دیا جاتا ہے۔

7- ڈیپریشن

چوں کہ خوشی اور غم کے جذبات کا کنٹرول بھی دماغ کے مخصوص حصوں میں ہوتا ہے اس لیے برین ٹیومر مریض میں ڈیپریشن کی علامات پیدا کرنے کا موجب بھی ہوسکتا ہے۔

8- رویے میں تبدیلی

برین ٹیومر کے مرض کی ابتدائی علامت میں سے ایک علامت رویے میں تبدیلی ہے وہ کبھی نہایت خوش ہوتا ہے اور کبھی بلا وجہ رونا شروع کردیتا ہے اور اس کے سوچنے سمجھنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے اور یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ ٹیومر دماغ کے ان حصوں کو تباہ کردیں جو جذبات و احساسات کو قابو میں رکھتے ہیں۔

اوپر دی گئی علامات کسی اور مرض کا شاخسانہ بھی ہو سکتی ہیں لیکن بہتر طریقہ کار یہی ہے کہ ان علامتوں کے نمودار ہوتے ہی فوری طور پر اپنے معالج سے مشورہ کریں اور ضروری ٹیسٹ کروائیں تا کہ بروقت مرض کی تشخیص کی جا سکے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں