The news is by your side.

Advertisement

برازیل کی جیل میں قیدیوں کا منفرد فیشن شو

ساﺅپالو : برازیل کی ایڈریانو مرے جیل کے صحن کو عارضی کیٹ واک میں تبدیل کر دیا گیا، جہاں ماڈلز نے جیل قیدیوں کے بنائے گئے ملبوسات کی نمائش کی۔

تفصیلات کے مطابق جب بھی ساﺅ پاؤلو فیشن ویک کا نام آتا ہے تو ذہن میں دلکش مقامات، نامور ڈیزائنر اور ان کے ملبوسات زیب تن کیے خوبصورت ماڈلز ہی آتی ہیں۔لیکن گذشتہ ہفتے اس فیشن ویک میں چند غیر معروف ڈیزائنرز کے ملبوسات کی نمائش بھی کی گئی۔

اس فیشن شو کا انعقاد بھی ایک ایک غیر معمولی جگہ کیا گیا، کسی مشہور ہال میں نہیں، یہ شو برازیل کی ایڈریانو مرے جیل میں ہوا۔جیل کے صحن کو عارضی کیٹ واک میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور چھت کے بجائے حفاظتی جنگلہ نصب تھا۔

جیل کے صحن میں ماڈلز نے کروشیا کاری سے بنے رنگ برنگے کپڑے پہن کر ان غیر معروف ڈیزائنرز کے کپڑوں کی نمائش کی، ان ملبوسات کو بنانے والے ڈیزائنرر دیوار کے لگ کر ایک دوسرے کے کام کی تعریف کرتے دکھائی دیئے۔

ان میں سے کچھ تو اس وقت بھی اپنی تازہ ترین تخلیقات پر کام کر رہے تھے، سفید ٹی شرٹ اور خاکی پتلون پہنے یہ ڈیزائنرز جو جیل کی سرمئی رنگ کی دیوار کے ساتھ بیٹھے تھے، رنگوں کے حسین امتزاج کی عکاسی کر رہے تھے۔

یہ غیر معمولی فیشن شو جیل کے قیدیوں کو کروشیا کی کشیدہ کاری کے فن کی تربیت دینے کے ایک پراجیکٹ کا حصہ تھا، یہ پروگرام برازیل کے فیشن ڈیزائنر گستاوو سلویسٹر نے شروع کیا جو گذشتہ تین برسوں سے چل رہا ہے۔

اس پروگرام کا حصہ بننے والے قیدیوں کو خاص رعایت ملتی ہے، اس کورس میں 12 گھنٹے کام کرنے پر ان کی سزا میں سے ایک دن کی کمی کر دی جاتی ہے، ان میں سے بہت سے قیدی منشیات کی سمگلنگ اور چوری جیسے جرائم کے لیے سزا کاٹ رہے ہیں۔

فلیپے سانٹوس ڈی سلوا نامی ایک قیدی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کروشیا کاری انھیں سکون دیتی ہے اور انھیں تمباکو نوشی اور منشیات کے استعمال پر قابو پانے میں مددگار رہی ہے۔

فیڈلسن بورخیز نامی قیدی کا کہنا تھا کہ یہ فیشن شو ان کی خود اعتمادی کو بڑھاوا دینے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

چوری کے جرم میں قید بورخیز کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے تخلیقی کام کی ماڈلنگ پر فخر ہے اور اس سے بھی زیادہ فخر کی بات یہ ہے کہ میرا کام لوگوں کو پسند آیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں