The news is by your side.

Advertisement

برازیل کے سابق صدر کا گرفتاری دینے سے انکار

ساؤ پالو: سابق برازیلی صدر لیوزانوسیو لولا ڈی سلوا نے خود کو وفاقی پولیس کے حوالے کرنے سے انکارکردیا۔

تفصیلات کے مطابق لولا ڈی سلوا کو وفاقی عدالت نے کرپشن کے الزام میں بارہ سال قید کی سزا سنائی تھی‘ وہ برازیل کے میٹل ورکرز یونین بلڈنگ کے ہیڈکوارٹرز میں قیام پذیر ہیں۔

اس موقع پرسابق صدر کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگ عمارت کے سامنے جمع ہوگئے ہیں جو ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ بہتّر سالہ لولا ڈی سلوا کے خلاف گرفتاری وارنٹ کے مطابق انھیں جمعے کے روز خود کو پولیس کے حوالے کرنا تھا۔

برازیل کی اعلیٰ عدالت کے جج نے سابق صدر کی گرفتاری کی ڈیڈ لائن سے کچھ دیر قبل قید میں ڈالنے کے وقت کو مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ واضح رہے سابق صدر نے عدالت سے اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آزاد رہنے کی درخواست کی تھی جسے منظور نہیں کیا گیا۔

فی الحال آٹھ سال تک حکومت کرنے والے برازیل  کے سابق صدر آزادی سے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں ‘ انہوں نے ہفتے کے روزاپنی آنجہانی اہلیہ ماریسا لیاشیا کی اڑسٹھ ویں سالگرہ  بھی منائی تھی۔ ان کی عوام میں مقبولیت تاحال برقرار ہے اگرچہ عدالت میں ان پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات ثابت ہوچکے ہیں۔

کرپشن کا الزام: برازیل کےسابق صدرکوساڑھےنوسال قید کی سزا

لولا ڈی سلوا نے اپنے اوپر لگے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا جبکہ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ سابق صدر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سابق صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک کنسٹرکشن کمپنی سے 1.1 ملین ڈالر رشوت لی اور اس کے بدلے مذکورہ کمپنی کو ریاست کے زیر انتظام چلنے والی تیل کمپنی سے کنٹریکٹس حاصل کرنے میں مدد دی۔

واضح رہے برازیل کی سوشلسٹ سیاسی پارٹی کے بانی رکن لولا ڈی سلوا کی بیوی کو بھی کرپشن میں ملوث قرار دیا گیا تھا لیکن ان کا گزشتہ سال فروری میں انتقال ہوگیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں