کھجور سے روزہ کھولنے کی حکمتیں -
The news is by your side.

Advertisement

کھجور سے روزہ کھولنے کی حکمتیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ساری دنیا کے مسلمان افطار کےوقت کھجور سے روزہ کھولنا ثواب سمجھتے ہیں،جدید تحقیق نے بھی ثابت کیا ہے کہ کھجور سے ہمارے جسم اور صحت کو بہت زیادہ فائدہ پہنچتا ہے.

ماہرین صحت کے مطابق افطار کے موقع پر کھجور استعمال کرنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ رمضان میں روزہ دار کے معدے کو کھجور ہضم کرنے میں بہت زیادہ مشقت نہیں کرنا پڑتی ہےجودن بھر کے روزے کی وجہ سے نڈھال ہوچکاہوتا ہے.

کھجور کھاتے ہی وہ معدہ جودن بھر کے روزے کی وجہ سے سست پڑجاتا ہے وہ ایک بار پھر فعال ہوتا ہے اور وہاں غذا ہضم کرنے والے خامروں اور انزائم کی پیداوار شروع ہوجاتی ہے جو افطار کے بعد کھانے کو ہضم کرنے میں مددکرتے ہیں.

رمضان میں کھانے کے اوقات میں تبدیلی کے باعث اور کھانےمیں اگر ریشےدار غذائیں شامل نہ ہوں تو روزہ دار قبض میں مبتلا ہوسکتا ہے لیکن چونکہ کھجور میں حل پذیر ریشے یا فائبرکی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے وہ قبض سے محفوظ رہتا ہے.

یوں تو کھجور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں پیدا ہوتی ہے تاہم مقامات مقدسہ کی قربت کی وجہ سے سعودی عرب میں پیدا ہونے والی کھجوروں کو دنیا بھر کے مسلمان عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جولوگ حج یا عمرہ کی نیت سے حجازمقدس جاتے ہیں وہ اپنے ساتھ کھجور کا تحفہ ساتھ لانا نہیں بھولتے.

سعودی عرب میں کھجور کی لگ بھگ سو سے زائد قسمیں پائی جاتی ہیں، ایک دور میں پوری مملکت میں سب سے زیادہ کھجور کی پیداوار کاشرف مدینہ منور کو حاصل تھا، لیکن اب دیگر علاقوں میں بھی کھجور وافرمقدار میں پیدا ہوتی ہے.

کھجوروں میں چند مقبول نام عجوہ، برہی، خلص، خضری، مجدولہ، نبوت، سیف، سقی اور سکری ہیں.

 


کھجور بہترین غذا کیوں ہے


آئیے جانتے ہیں کہ کھجور میں کون سے اجزاء شامل ہیں جو انسانی جسم کو تندرست رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں.

کھجور میں شامل میگنیشیئم بلڈ پریشر کم کرتا ہے، پٹھوں،اعصاب اور شریانوں کو پرسکون رکھتا ہے،ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے، پھیپھڑے کے سرطان سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور اس میں موجود تانبے کے ساتھ مل کر ہائپرٹینشن اور دل کی دھڑکن کو قابو میں رکھتا ہے.

کیلشیئم جو کھجور کا ایک اہم جزو ہے،یہ عضلات ، شریان اور اعصاب کو پھیلاتا ہے ہڈیوں کی تعمیر کرتا ہے اور ہڈیوں کے بھر بھرے پن کی بیماری اوسٹیوپورویس سے بچاتا ہے.

کھجور میں موجود پوٹاشیم دل کے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے، پٹھوں کی اکڑن سے بچاتا ہے،ہڈیوں کے ڈھانچے کو بہتر کرتا ہے اور کینسر کا خطرہ گھٹاتا ہے،اس پھل میں شامل فاسفورس دانتوں اور ہڈیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے.

کھجور میں شامل  آئرن اس کا اہم حصہ ہے جو وٹامن بی ٹو اور کاپر کے ساتھ مل کر خون کے سرخ خلیات کی تعمیر میں مددکرتا ہے، بذریعہ خون پٹھوں اور خلیات تک آکسیجن کی فراہمی ممکن بناتا ہے،بصارت کو بہتر کرتا ہے.

وٹامن اے کی کھجور میں دستیابی سے رات کو نظر بہتر ہوتی ہے اور جلد خشک نہیں ہوتی،سیب اور ناشپاتی کی طرح کھجور کولیسٹرول کم کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں امراض قلب سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے.

احادیث مبارکہ میں سحری اور افطار میں کھجورکے استعمال کی ترغیب موجود ہے، کھجورکھانا، اس کو بھگوکراس کا پانی پینا،اس سے علاج تجویز کرنا سب سنتیں ہیں،الغرض اس میں لاتعداد برکتیں اور بے شمار بیماریوں کا علاج ہے.

حضوراکرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ

”عجوہ کھجورجنت میں سے ہے اس میں زہرسےشفا ہے“. ( ابن النجار)

حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نہار منہ مدینہ کی سات کھجوریں استعمال کرلیں
اس دن نہ تو اسے زہر سے نقصان ہوگا اور نہ جادو کا اثر ہوگا“

کجھور کا قرآن میں ذکر

کھجور کے بیش بہا فوائد اور بھی ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ یہ وہ پھل ہے جس کا ذکر اللہ تعالی کے آخری الہامی کلام میں بیس سے زائد مقامات پر جبکہ احادیث مبارکہ میں بیشتر مقامات پر ہوا ہے جس نے کھجور کی اہمیت اور فضیلت پر مہرِ یقین لگا دی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں