The news is by your side.

Advertisement

یورپی یونین کے سربراہان بریگزٹ کی ڈیڈ لائن میں توسیع پر غور کریں، ڈونلڈ ٹسک

برسلز : یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ ’میں یورپی سربراہوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اگر برطانیہ کو اپنی پالیسیوں پر دوبارہ سوچنے اور فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تو’’بریگزٹ کی تاریخ میں طویل توسیع کی جائے‘۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کا معاملہ مشکلات کا شکار ہوگیا ہے، 29 مارچ رات 11 بجے برطانیہ یورپی یونین سے نکل جائے گا لیکن ابھی وزیر اعظم تھریسامے پارلیمنٹ سے بریگزٹ معاہدے کے مسودے کو منظور کروانے میں ناکام رہی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ مجھے اس لیے درمیان میں مداخلت میں کرنا پڑرہی ہے کیوں برطانوی اراکین پارلیمنٹ بریگزٹ کی ڈیڈ لائن 29 سے بڑھا کر 30 جون پر ووٹنگ سے متعلق سوچ رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے سربراہان 21 مارچ کو برسلز میں ملاقات کرکے حتمی فیصلہ کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بریگزٹ معاہدہ دو مرتبہ ہاؤس آف کامنز سے مسترد ہونے کے بعد تھریسامے آئندہ ہفتے تیسری مرتبہ یورپی یونین سے انخلاء کے معاہدے پر منظوری لینے کی کوشش کریں گی۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم تھریسامے کا کہنا ہے کہ اگر بریگزٹ ڈیل تیسری مرتبہ بھی مسترد ہوئی تو بریگزٹ میں طویل عرصے کےلیے توسیع لینا پڑے گی۔

وزیر اعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ اگر بریگزٹ معاہدے کا مسودہ اس مرتبہ بھی حمایت حاصل نہ کرسکا تو بریگزٹ کےلیے طویل مدت تک انتظار کرنا پرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں : وزیر اعظم تھریسامے تیسری مرتبہ بریگزٹ‌ معاہدے پر ووٹنگ کےلیے پُرعزم

مزید پڑھیں : بریگزٹ معاہدے میں پیش رفت؟ وقت بہت کم ہے

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے خبردار کیا کہ حد زیادہ ترجیحات کے باعث دو مرتبہ بریگزٹ ڈیل مسترد ہوچکی ہے اگر اس مرتبہ بھی مسترد ہوئی برطانیہ کو بریگزٹ کےلیے طویل عرصے تک توسیع لینا پڑے گی کیوں برطانیہ کو یورپی پارلیمنٹ کے الیکشن میں حصّہ لینے کی ضرورت پڑے گی۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز برطانوی وزیرعظم تھریسامے کو ایک اور دھچکا لگا تھا جب اراکین پارلیمنٹ میں بریگزٹ معاہدے پر نظرثانی ڈیل بھی 242 کے مقابلے میں 391 ووٹوں سے مسترد ہوگئی تھی۔

بریگزٹ کے تحت برطانیہ کو 29 مارچ کو یورپی یونین سے علیحدہ ہونا ہے، جبکہ تھریسا مے کی جانب سے یورپی رہنماؤں سے مسلسل رابطوں کے باوجود وہ ڈیل کو بچانے میں ناکام نظر آرہی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں