The news is by your side.

Advertisement

بریگزٹ برطانیہ کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا

لندن: برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بریگزٹ میں تاخیر کے لیے یورپی یونین کو تحریری طور پر درخواست بھیج دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس سے پہلے پارلیمان میں یورپی یونین سے انخلا میں توسیع کے حق میں قرارداد کی منظوری دی تھی تاہم وزیراعظم کی اس درخواست پر ان کے دستخط نہیں ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بریگزٹ ڈیل برطانیہ کے لیے مشکلات کھڑی کرچکی ہے، وزیراعظم بورس جانسن نے برسلز سے تاخیر کے لیے باقاعدہ درخواست کر دی ہے تاہم وزیراعظم کی جانب سے لکھی گئی اس درخواست پر ان کے دستخط نہیں ہیں۔

اس درخواست کے بعد بورس جانسن نے یورپی یونین کو ایک اور خط بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے خیال میں بریگزٹ میں تاخیر ایک غلطی ہوگی۔

بریگزٹ میں تاخیر کی قرارداد دارالعوام کے آزاد رکن سر اولیور لیٹون نے پیش کی تھی اور پارلیمان کے 322 ارکان نے اس کی حمایت جبکہ 306 نے مخالفت کی تھی۔

برطانیہ میں میڈیا سے لے کر عوام تک ہر ایک کے اعصاب پر سوار ہے تمام اخبارات میں اس حوالے سے شہ سرخیاں لگائی گئی ہیں جبکہ لندن میں ہزاروں افراد نے بریگزٹ کے خلاف مظاہرہ کیا، مئیر لندن صادق نے اس معاملے پر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔

بریگزٹ ڈیل : برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے فیصلے میں تاخیر کے حق میں ووٹ دے دیا

خیال رہے کہ گذشتہ روز برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے بریگزٹ ڈیل کے فیصلے میں تاخیر کے حق میں ووٹ دے دیا، جبکہ وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ بریگزٹ میں تاخیر پر یورپی یونین سے مزید کوئی بات نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ برطانیہ کو 2016 کے ریفرنڈم کے مطابق 29 مارچ کو یورپی یونین سے علیحدہ ہونا تھا تاہم ہاؤس آف کامنز کی جانب سے متعدد مرتبہ بریگزٹ معاہدے کی منسوخی کے باعث بریگزٹ میں 12 اپریل توسیع کی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں