The news is by your side.

Advertisement

شاہ محمود قریشی کی جموں و کشمیر کی صورت حال پر ڈپلومیٹک کور کو بریفنگ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جموں و کشمیر کی صورت حال پر ڈپلومیٹک کور کو بریفنگ دی، انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلہ یک طرفہ ہے، وادی کی آئینی حیثیت ختم کرنے کی کوشش پاکستان مسترد کرتا ہے۔

شاہ محمود نے ڈپلومیٹک کو بریفنگ میں بتایا کہ پڑوسی ملک بھارت شملہ معاہدے کے تحت تمام امور مشاورت سے حل کرنے کا پابند تھا، لیکن اس نے یک طرفہ طور پر اقدام اٹھایا جو غیر قانونی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے تھے کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو بڑھائیں گے، مگر بھارت نے ہمیشہ مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں یورپی یونین کی اعلیٰ نمایندہ فیڈریکا موگرینی سے فون پر تفصیلی بات ہوئی، انھوں نے یہ بتایا کہ ان کی بھارتی وزیر خارجہ سے بات ہوئی تو انھوں نے کہا ایک تو یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، دوم یہ اقدام کشمیریوں کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

شاہ محمود نے بتایا کہ ایسا نہیں ہے، بھارتی اقدام مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کو مزید بڑھانے کے لیے کیا گیا، پہلے بھارت نے گورنر راج پھر صدارتی راج لگایا، اب مزید آگے بڑھنے کی کوشش کی، یو این سیکورٹی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کو متنازع معاملہ تسلیم کیا، یہ سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے پر ہے، بھارت کے سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جو انھوں نے سلامتی کونسل اور عالمی فورمز پر دیے۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر میں نے انسانی حقوق کمشنر سے بھی بات کی، انھیں ان کے آفس کی جاری رپورٹ کی بابت سے آگاہ کیا کہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے، بھارت اب ہم دردی حاصل کرنے کے لیے پلواما جیسا ڈراما کر سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کو چھینا گیا جسے پاکستان مسترد کرتا ہے، وزیر اعظم نے میری صدارت میں خصوصی جائزہ کمیٹی تشکیل دی، ہم نے فیصلہ کیا بھارت کے ساتھ تعلقات کو ڈاؤن گریڈ کرتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں