مانچسٹر (07 فروری 2026): برطانیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے، اور 60 ہزار افراد ملک بدر کر دیے گئے ہیں۔
ڈنکی کے سلسلے کو روکنے کے لیے فرانس کے ساتھ مل کر برطانیہ میں کی گئی کاروائیوں میں انسانی اسمگلروں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے، اور غیر قانونی تارکین وطن کے لیے زمین تنگ ہو گئی۔
برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ 2024 کے انتخابات کے بعد سے 60,000 غیر قانونی تارکین وطن ملک بدر کیا جا چکا ہے، 15,200 افراد کو برطانیہ میں غیر قانونی رہنے پر سرکاری طور پر نکالا گیا، جو گزشتہ مدت کے مقابلے میں 45 فی صد زیادہ ہے۔
ہوم آفس کے مطابق 43,000 غیر قانونی تارکین وطن نے قانونی حکم کے بعد خود وطن واپسی اختیار کی، غیر ملکی مجرموں کی بے دخلی میں 32 فی صد اضافہ ہو گیا ہے، 8,700 سے زائد افراد ملک بدر کیے گئے۔
آئی ایم سوری! برطانوی وزیر اعظم نے ایپسٹین متاثرین سے معافی مانگ لی
ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے بے دخلیاں بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے، دوسری طرف سمندری راستے سے برطانیہ میں 65,000 سے زائد غیر قانونی تارکین وطن ملک میں داخل ہو چکے ہیں، جب کہ حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو انسانی حقوق کی بنیاد پر اپیلیں روکنے کے بل پر بھی کام کر رہی ہے۔
زاہد نور اے آر وائے نیوز کے ساتھ مانچسٹر سے بطور نمائندہ خصوصی منسلک ہیں


