The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ بھی ‘برٹ کوائن’ کی دوڑ میں شامل ‏

ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں اور مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی طاقتیں ڈیجیٹل ‏کرنسی کی دوڑ میں لگ گئیں۔

امریکا کے بعد برطانیہ نے بھی اپنی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ ‏برطانیہ نے ڈیجیٹل کرنسی ‘برٹ کوائن’ لانے کے لیے سر جوڑ لیے ہیں۔

بینک آف انگلینڈ اور برطانوی وزرات خزانہ کا کہنا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ایک سینٹر بینک ‏ڈیجینل کرنسی بنانے کے امکانات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

بینک آف انگلینڈ کے مطابق اگر برٹ کوائن بنائی گئی تو اسے بطور ڈیجیٹل کرنسی منظور کر لیا ‏جائے گا۔ اس کرنسی کو کاروباری لین دین، تجارت اور خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

کرنسی نوٹ کی اپنی حیثیت برقرار رہے گی اور کرنسی نوٹ معمول کی طرح مستقبل میں بھی ‏گردش میں رہیں گے۔

برٹ کوائن لانے کا مقصد ڈیجیٹل لین دین میں اضافے اور کرنسی نوٹوں کے استعمال میں کمی کو ‏مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ کورونا وبا کے دوران کرنسی نوٹوں کے استعمال میں بھی کمی آئے ‏ہیں اور ڈیجیٹل ٹرانزکشنز نے وسعت حاصل کی ہے۔

واضح رہے کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکسس جیسی کمپنیوں کے بانی ایلون مسک نے بٹ کوائن کرنسی میں ڈیڑھ ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے، ایک سال کے دوران بٹ کوائن کی قدر میں 400 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا، مگر اب اس میں دوبارہ کمی آئی ہے، اس کے باوجود دنیا بھر میں اس ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے لوگوں کی دل چسپی بڑھی ہے۔

دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کے طور پر استعمال ہونے والے ایک بٹ کوائن کی قیمت 89 لاکھ 54 ہزار روپے سے زائد ہوگئی، ایک ہفتے کے دوران ایشیائی تجارت میں بٹ کوائن استعمال کرنے میں تیزی آئی جس کی وجہ سے قیمت میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق سال 2021 کے آغاز کے بعد سے اب تک بٹ کوائن کی قیمت میں 92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بٹ کوائن کی قیمت میں اضافے کی وجہ سرمایہ کاروں اور معروف کمپنیوں کا اعتماد ہے کیونکہ ٹیسلا، ماسٹر کارڈ اور بی این وائی میلن جیسی کمپنیاں اب بٹ کوائن سے خرید و فروخت کررہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں