The news is by your side.

برطانیہ اور فرانس میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ناکافی تنخواہوں کے پیش نظر نہ صرف عوام بلکہ فرانس کا طبی عملہ اپنے مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج ہے تو دوسری جانب لندن اور ویلز کے ایمبولینس ڈرائیور بھی تنخواہوں میں کمی کے خلاف سڑکوں پر آنے کو تیار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فرانس میں پرائیوٹ ڈاکٹروں اور بائیولوجسٹ نے اپنے مطالبات کے حق میں دو روزہ ہڑتال شروع کردی ہے۔ دوسری جانب لندن اور ویلز کے ایمبولینس ڈرائیوروں نے بھی تنخواہوں میں کمی کے خلاف ہڑتال پر جانے کا اعلان کیا ہے۔

فرانسس کی ڈاکٹرز اینڈ بائیولوجسٹ یونین نے موجودہ ہیلتھ سروسز ٹیرف کے خلاف ملک بھر کے پرائیوٹ ڈاکٹروں اور بائیولوجسٹ سے دو روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

دوہزار پندرہ سے فرانسیسی ڈاکٹروں کا ایک گروپ اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے ہڑتال کی اپیل کرتا رہا ہے۔

فیوچر ڈاکٹرز نامی نوجواں ڈاکٹر کی یہ تحریک محض چند ہفتوں میں فیس بک پر پندرہ ہزار ممبر بنانے میں کامیاب رہی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ایک لاکھ دس ہزار فرانسیسی ڈاکٹروں اور بائیولوجسٹ میں ہیلتھ سروسز ٹیرف کے معاملے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

فیوچر ڈاکٹرز نامی تنظیم، اپنی فیسوں میں دو گنا اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وزٹ فیس پچیس یورو سے بڑھا کر پچاس یوروکردی جائے جو یورپی یونین کے دیگر ملکوں کے برابر ہے۔

فرانسیسی تنظیم یونین فار فری میڈیسن یو ایف ایم ایل کے سیکریٹری جروم مارٹی کا کہنا ہے کہ بظاہر ہمارا مطالبہ غیر منطقی دکھائی دیتا ہے لیکن اگر یورپی یونین کے دیگر ملکوں میں رائج میڈیکل ٹیرف کو دیکھا جائےتو پھر یہ مطالبہ پوری طرح منطقی دکھائی دے گا۔

کہا جارہا ہے کہ برونکائٹس کی وبا کی وجہ سے ایس او ایس میڈیسن اور چلڈرن ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو اس ہڑتال میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی لیکن اس کے باوجود فرانس بھر میں سیکڑوں کلینک بند ہو جانے کا امکان ہے۔

اس سلسلے میں پیرس میں وزارت صحت کی عمارت کے سامنے جمعرات کو ایک مظاہرہ کیا جارہا ہے جس میں سیکڑوں ڈاکٹرز اور بائیولوجسٹ حصہ لے رہے ہیں۔

فرانس کے بیس دیگر شہروں سے ایسے ہی مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں ۔ ادھر برطانیہ میں ایمبولینس ڈرائیوروں کی انجمن کا کہنا ہے کہ کام کی سخت شرائط کی وجہ سے انگلینڈ اور ویلز میں ایمبولنس ڈرائیوروں کی تعداد کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

سی جی ٹی این نامی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز کے ہر دس میں سے ایک ایمبولینس ڈرائیور نے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال پر جانے کا اعلان کیا ہے تاہم ہڑتال شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان ٹریڈ یونین کے فیصلے کے بعد کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں