The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ کا چھ ماہ سے کم قید کی سزا ختم کرنے پر غور

لندن : برطانوی وزیرِ انصاف نے انگلینڈ اور ویلز میں چھ ماہ سے کم قید کی سزا ختم کرنے پر غور شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے وزیرِ انصاف نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم کو روکنے کے لیے کمیونٹی سزاؤں کی نسبت جیل کی کم مدتی سزا غیر موثر ثابت ہورہی ہیں۔

برطانوی وزیرِ جیل خانہ جات روری سٹیورٹ نے مقامی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’کچھ سزائیں ایسی ہیں جو طویل مدتی ہونے کے باعث آپ کو نقصان پہنچاتی ہیں جبکہ کچھ سزاؤں کی مدت کم ہونے کی وجہ سے آپ پر کوئی اثر نہیں پڑتا‘۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اگر کم مدتی یا اس جیسی دیگر سزائیں ختم ہوجائیں تو ہزاروں جیلیں آزاد ہوجائیں گی۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر سال نقب زنوں اور دکانوں میں چوریاں کرنے والے ملزمان سمیت 30 ہزار افراد کو چھ ماہ قید یا اس سے کم مدتی قید کی سزا ہوتی سنائی جاتی ہے، جیسے ختم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں 1990 کے بعد سے جیل میں آبادی کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے جو 2018 میں 40 ہزار سے 80 ہزار تک پہنچ گئی چکی ہے۔

برطانوی وزیر جیل سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ 12 ماہ سے کم قید کی سزا کاٹنے والے ایک تہائی مجرم دوبارہ جرم کرنے کے لیے جلد رہا ہوجائیں گے۔

جیلوں میں اصلاحات کے حوالے سے کام کرنے والی ٹرسٹ نے وزارء کے مشورے کا خیر مقدم کیا ہے تاہم اس سے قبل ٹرسٹ کا مؤقف تھا کہ کم مدتی قید کی سزائیں ختم کرنے کا گمان بھی نہیں کرسکتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں