The news is by your side.

Advertisement

طلبہ کا احتجاج رنگ لے آیا، برطانوی حکومت کا نتائج میں تبدیلی کا اعلان

برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے پاکستانی طلبہ کے نتائج میں بھی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا

لندن: برطانیہ میں طلبہ کا احتجاج رنگ لے آیا ہے، برطانوی حکومت نے نتائج میں تبدیلی کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق کیمبرج یونی ورسٹی کے اے لیول، جی سی ایس ای کے نتائج پر طلبہ اور والدین نے تحفظات کا اظہار کیا تھا، کرونا وائرس کی وجہ سے طلبہ کو اندازے پر مبنی امتحانی نتائج دیے گئے تھے اور 40 فی صد نتائج میں طلبہ کو پہلے سے کم گریڈ ملے۔

لندن کے پاکستانی نژاد میئر صادق خان نے نتائج تبدیلی کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی ہزاروں طلبہ کیمبرج نتائج سے مطمئن نہیں ہیں، پاکستان میں بھی طلبہ نے او لیول، اے لیول کے برطانوی نتائج کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے پاکستانی طلبہ کے نتائج میں بھی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا۔

سارا سال محنت کرنے والے طلبہ کی 40 فی صد ڈاؤن گریڈنگ، مستقل کو ناقابل تلافی نقصان

واضح رہے کہ سارا سال محنت کرنے والے دنیا بھر کے طلبہ کو کیمبرج یونی ورسٹی کی جانب سے 40 فی صد ڈاؤن گریڈنگ کے ذریعے A سے C اور D گریڈ دے دیا گیا ہے، طلبہ کو انفرادی طور پر اپیل کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے، اور صرف اسکولز کو مجموعی طور پر اپیل کرنے کی اجازت دی گئی۔

آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے آج اس پر احتجاج کرتے ہوئے O اور A لیول کے نتائج مایوس کن اور ناقابل قبول قرار دیا، تنظیم کا کہنا تھا کہ اس طرح ڈاؤن گریڈنگ سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوگا، حکومت کیمبرج یونی ورسٹی کو نتائج پر نظرثانی کے لیے مجبور کرے۔

نجی اسکولز اور کالجز کی تنظیم کا کہنا تھا کہ حکومت کو فوری طور پر کیمبرج یونی ورسٹی سے نتائج پر نظرثانی کا مطالبہ کرنا چاہیے، اور مقامی یونی ورسیٹیز سے داخلے کی مطلوبہ شرائط میں بھی نرمی کروائی جائے، اور ایسا ذمہ دار ادارہ قائم کیا جائے جہاں ان طلبہ کی داد رسی اور آئندہ کیمبرج امتحانات کی ملکی سطح پر مانیٹرنگ اور کوارڈینیش ہو سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں