The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ‘ ڈرائیور نے مسجد کے باہر کھڑے نمازیوں پرگاڑی چڑھا دی

لندن :برمنگھم میں کار سوار نے مسجد کے باہر کھڑے مسلمان نوجوانوں پر گاڑی چڑھادی، جس کے نتیجے میں دو نوجوان شدید زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کے روز تیز رفتار کارسوار نے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں واقع مسجد سے نماز بڑھ کر نکلنے والے مسلمانوں پر کار چڑھادی اس اچانک افتاد پر بھگڈر مچ گئی اور کئی لوگ سڑک پر گر گئے اور دیگر گاڑیوں میں بھی تصادم ہو گیا۔

ویسٹ مڈلینڈ پولیس کا کہنا تھا کہ کار حادثے میں دو نوجوان شدید زخمی ہوئے ہیں، زخمی ہونے والوں کی عمریں 17 اور 19 سال ہے۔

ریسکیو ادارے نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا تھا، جہاں 19 سالہ زخمی نوجوان کے سر اور کمر میں چوٹیں آنے کی وجہ سے حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

دوسری جانب تیز رفتار گاڑی کی زد میں آنے والے 17 سالہ نوجوان کے سر اور ٹانگوں میں شدید زخم آئے ہیں البتہ حالت خطرے سے باہر ہے۔

پولیس حکام تاحال واقعے میں ملوث کار سوار کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں، تاہم ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثہ دہشت گردی یا نفرت پر مبنی نہیں تھا بلکہ اتفاقیہ طور پر پیش آیا۔

برطانوی پولیس حملہ آور کی گرفتاری کے لیے جائے وقوعہ کے اردگرد لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو سے بھی مدد لے رہی ہے۔

پولیس نے عینی شاہدین اور عوام سے گذارش کی ہے کہ واقعے میں ملوث ڈائیور اور گاڑی کے معلومات پولیس تک پہنچائیں تاکہ ملزم کو گرفتار کیا جاسکے۔

خیال رہے واقعے کے وقت سیکڑوں نمازی مسجد کے اندر اور باہر موجود تھے اور اچانک تیز رفتار گاڑی کے لوگوں پر چڑھ دوڑنے سے نمازیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سراسمیگی پھیل گئی۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران برطانیہ میں مسلمان کے خلاف نفرت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔


برطانیہ میں گینگ کے ہاتھوں تشدد سے زخمی مسلمان طالبہ دم توڑگئی


یاد رہے کہ گذشتہ ماہ برطانیہ کے شہر ناٹنگھم میں خواتین کے ایک نسل پرست گینگ نے دن دیہاڑے مسلم طالبہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث متاثرہ لڑکی تین ہفتے اسپتال میں داخل رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئی تھی۔


برطانیہ میں مسلمانوں‌ کے خلاف نفرت انگیز خط کی تقسیم


رواں ماہ برطانیہ میں تین اپریل کو مسلمانوں کو سزا دینے کے دن کے طور پر منایا گیا تھا، جس کے لیے خط بھی تقسیم کیے گئے تھے، خط میں تین اپریل کو ’پنش اے مسلم ڈے‘ یعنی مسلمانوں کو سزا دینے کا دن، کے طور پر منانے کو کہا گیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 12 مارچ کو پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ محمد یاسین کو بھی ایک مشکوک پارسل موصول ہوا تھا، جس کو پولیس نے قبضے میں لے لیا تھا تاہم اس پارسل سے کوئی نقصان دہ چیز برآمد نہیں ہوئی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں