The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ کے نئے وزیراعظم کی دوڑ ، پاکستانی نژاد ساجدجاوید ٹاپ ٹین میں شامل

لندن : برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے استعفٰی کے بعد پاکستانی نژادساجدجاوید کے وزیراعظم بننے کا امکان ہے، وزارت عظمٰی کی دوڑ میں ساجدجاویدٹاپ ٹین میں شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق رطانوی وزیراعظم تھریسامے کے استعفٰی کے اعلان کے بعد برطانیہ کے نئے وزیراعظم کی دوڑمیں پاکستانی نژادساجدجاوید ساجدجاویدٹاپ ٹین میں شامل ہیں۔

ساجدجاویدگزشتہ سال وزیرداخلہ کےعہدےپرتعینات ہوئےتھے۔

پاکستانی نژاد ساجد جاوید اس سے قبل برطانیہ کی لوکل گورنمنٹ، ہاوسز کے وفاقی وزیر تھے۔ ساجد جاوید سنہ 2010 سے برطانوی پارلیمنٹ کا حصّہ ہیں۔ وہ ساجد جاوید برطانیہ کے سابق انویسٹمنٹ بینکر، اور برومزگرو سے ایم پی منتخب ہوکر وزیر برائے بزنس اور ثقافت بھی رہ چکے ہیں۔

خیال رہے برطانیہ کی کنزرویٹیو پارٹی کے رکن اور نو منتخب وزیر داخلہ ساجد جاوید پاکستانی بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں جو سنہ 1960 میں اہل خانہ کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہوگئے تھے۔

دوسری جانب وزارت عظمٰی کی دوڑ میں کئی نامی گرامی سیاستدانوں کے نام بھی سامنے آگئے ہیں ، جن میں بورس جانسن، ایستھر میک وی، روری سٹیورٹ،  اور جیرمی ہنٹ شامل ہیں۔

ایستھر میک وی


ایستھر میک وی نے گذشتہ برس نومبر میں بریگزٹ پر ہونے والے مذاکرات پر وزیراعظم سے اختلاف کے بعد ورکس اور پینشن کے وزیر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا،

بورس جانسن


بورس جانسن نے بھی بریگزٹ پر ہونے والے مذاکرات پر اختلاف کے باعث وزیر خارجہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ بورس بریگزٹ کی مہم کے بڑے حامی تھے۔

روری سٹیورٹ


سابق سفارت کار روری سٹیورٹ کو رواں ماہ وزیر بین الاقوامی ترقی کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے، وہ 2010 میں پہلی مرتبہ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

جیرمی ہنٹ


جیرمی ہنٹ کو بورس جانسن کے مستعفی ہونے کے بعد وزیر خارجہ کے عہدے پر مقرر کیا گیا تھا، جیرمی ہنٹ نے ریفرنڈم میں یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اینڈریا لیڈسم


اینڈریا لیڈسم حال ہی میں دارالعوام کے لیڈرآف دی ہاؤس کے عہدے سے استعفیٰ دیا، وہ بھی بریگزٹ کی حامی ہیں۔

یاد رہے گذشتہ روز برطانیہ کی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے بریگزٹ معاہدے کے معاملے پر اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے سات جون کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں :  برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا مستعفیٰ ہونے کا اعلان

لندن میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر اپنے خطاب میں برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے شدید پشیمانی کی بات ہے کہ وہ بریگزٹ نہیں کروا سکیں، میں نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی یہ کوشش رہی کہ برطانیہ صرف چند لوگوں کو فائدہ نہ دے بلکہ سب کے لیے ہو۔

ان کا کہنا تھا میں نے ریفرینڈم کے نتائج کو عزت دینے کی کوشش کی اور ہمارے انخلا کے لیے شرائط پر مذاکرات کیے، میں نے ارکان پارلیمان کو قائل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اس معاہدے کی حمایت کریں لیکن افسوس میں اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں