The news is by your side.

Advertisement

برطانوی وزیر اعظم نے جرمانہ ادا کر دیا

لندن: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کرونا پابندیوں کی خلاف ورزی پر عائد جرمانہ ادا کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق بورس جانسن نے کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر آخر کار جرمانہ ادا کر دیا، تاہم استعفے کے حوالے سے انھوں نے دو ٹوک مؤقف اپنایا۔

برطانوی وزیر اعظم سے جب مستعفی ہونے سے متعلق استفسار کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ مجھے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، مستعفی نہیں ہوں گا۔

بورس جانسن نے کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے پر معذرت بھی کی ہے، اس سے قبل جنوری میں بھی وہ اس پر معافی مانگ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ 20 مئی 2020 کو ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے پائیں باغ میں پارٹی ہوئی تھی، لاک ڈاؤن کی اس خلاف ورزی پر اپوزیشن کی جانب سے بورس جانسن کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ بورس جانسن نے اس سے قبل ان خبروں کی تردید کی تھی کہ وہ اور ان کی اہلیہ کیری جانسن نے اس تقریب میں شرکت کی ہے۔

12 جنوری کو بورس جانسن نے کہا کہ وہ اندر کام پر جانے سے قبل 25 منٹ تک پارٹی میں شریک ہوئے تھے، انھوں نے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ یہ کام کے سلسلے کی تقریب ہوگی، تاہم وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ پتا چلنے پر انھیں حاضرین کو بھی واپس اندر بھیج دینا چاہیے تھا۔

قائد حزب اختلاف کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کے وزیر اعظم کا یہ عذر کہ "انھیں احساس نہ تھا کہ وہ پارٹی میں تھے” ایک "مضحکہ خیز” اور "دل شکن” عذر ہے، لیبر پارٹی کے رہنما نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں