The news is by your side.

Advertisement

سائنس سے سیاست تک “آئرن لیڈی” کے سفر کی کہانی

برطانیہ بھی کرونا سے متاثرہ ملکوں میں شامل ہے جسں کے موجودہ وزیراعظم بورس جانسن بھی اس وائرس کا شکار ہیں اور پچھلے دنوں انھیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کیا گیا ہے۔

اسی برطانیہ کی ایک خاتون وزیرِاعظم تھیں مارگریٹ ہلڈا تھیچر، جنھیں “آئرن لیڈی” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

برطانیہ کی یہ سیاست داں اپنے مضبوط ارادوں اور عزم و ہمت کی وجہ سے دنیا بھر میں‌ پہچانی جاتی ہیں۔

وہ برطانوی تاریخ کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں۔ انھوں نے ثابت کیا کہ اس عہدے کے لیے ان کا انتخاب غلط نہ تھا۔ اپنے دور میں کئی سیاسی اور عسکری فیصلوں کے دوران انھوں نے بڑی سے بڑی مشکل اور رکاوٹ کو ہمت اور بہادری سے دور کیا۔ وہ 1979 تک برطانیہ میں اس عہدے پر فائز رہیں۔

مارگریٹ تھیچر کا سن پیدائش 1925 ہے۔ انھوں نے آکسفورڈ میں تعلیم پائی اور کیمسٹری کے مضمون میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1947 سے لے کر1951 تک ایک ادارے میں تحقیق میں مصروف رہیں۔

1951 میں شادی کے بعد بھی مارگریٹ تھیچر نے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا، مگر اب وکالت ان کا مضمون تھا۔ 1953 میں امتحان میں کام یابی کے بعد وہ ٹیکس اٹارنی بن گئیں۔

یہاں سے انھیں سیاست کے میدان میں قدم رکھنے کا موقع ملا اور وہ کنزرویٹو پارٹی سے وابستہ ہو گئیں۔ 1959 میں اس جماعت کے ٹکٹ پر دارالعوام کی رکن منتخب ہوئیں۔

ان کی سیاسی بصیرت اور اہلیت نے انھیں ایک روز برطانیہ کی وزیراعظم کے عہدے تک پہنچا دیا۔

اس منصب پر فائز ہونے کے بعد مارگریٹ تھیچر نے کچھ ایسے فیصلے کیے جن پر سیاسی اور عوامی سطح پر انھیں کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مگر وہ ایک قدم پیچھے نہ ہٹیں۔

ان کے دور میں برطانیہ میں کئی شعبوں میں اصلاحات کی گئیں اور اس حوالے سے بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مارگریٹ کے دورِ حکومت میں برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان جنگ ہوئی میں برطانیہ کی کام یاب خارجہ پالیسی کو بہت سراہا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انھیں مسلسل تین انتخابات میں کام یابی نصیب ہوئی اور ان کا شمار بیسویں صدی کے طاقت ور اور کام یاب سیاست دانوں میں کیا جاتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں