site
stats
صحت

ٹی بی کی تشخیص میں برطانوی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت

لندن : برطانوی سائنسدانوں نے تپ دق کی تشخیص میں اہم پیش رفت حاصل کرلی ہے جس سے علاج مزید موثر ہو جائے گا۔

تفصیلات کےمطابق اوکسفرڈ اور برمنگھم کے سائنس دانوں نے ٹی بی کی تشخیص میں جینوم سیکونسنگ کا طریقہ استعمال کر کے اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے۔

برطانوی سائنسدانوں کی اس اہم پیش رفت کےبعد جن مریضوں کو درست دوا کےانتخاب کے لیےمہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا اب ان کے اندر بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی شناخت چند دنوں کے اندر اندر ہو سکے گی۔

برطانوی وزیرِ صحت جیریمی ہنٹ کاکہناہے کہ اس پیش رفت سے زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔

خیال رہےکہ برطانیہ میں ٹی بی کےمریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے،لیکن اس کے باوجود انگلینڈ میں اس مرض کی شرح یورپ کےدوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔


مزید پڑھیں: پاکستان ٹی بی کا شکار پانچواں بڑا ملک


سائنس دانوں کےمطابق جینوم سیکونسنگ کی مدد سے وہ ایک ہفتے میں مختلف نمونوں کے اندر ڈی این اے کی شناخت کر سکتے ہیں۔مرض کی جلد تشخیص کی بدولت مریضوں کا علاج جلد شروع کیا جا سکتا ہے۔

مائیکرو بیالوجسٹ پروفیسر گریس اسمتھ نےکہاکہ ہم یہ معلومات دے سکتے ہیں کہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کون سے ہیں اور ان پر کون سی ادویات اثر نہیں کرتیں۔

واضح رہےکہ اس وقت دنیا بھر میں تشویش ہے کہ ٹی بی کے ایسے جراثیم سامنے آ رہے ہیں جن پر اینٹی بیاٹک ادویات اثر نہیں کرتیں۔اس کے باعث اس مرض کو دنیا سے ختم کرنے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top