The news is by your side.

Advertisement

ایسٹرازینیکا ویکسین لگوانے سے برطانوی خاتون ہلاک

ایسٹرا زینیکا ویکسین نے ایک اور جان لے لی، ویکسینیشن کے بعد خون جمنے کی وجہ سے خاتون ‏موت کے منہ میں چلی گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ملک قبرص میں ایسٹرا زینیکا ویکسین ‏لگوانے کے بعد خون جمنے کے باعث برطانوی خاتون ہلاک ہو گئیں۔

حکام وزارت صحت کے مطابق چھ مئی کو ایسٹرازینیکا کی پہلی ڈوز لگوانے کے بعد خاتون کی ‏حالت غیر ہونے اور بلڈ کلاٹنگ کی علامات سامنے آنے پر نکوسیا جنرل اسپتال کے انتہائی نگہداشت ‏میں داخل کروایا گیا تھا۔

بعدازاں حالت بگڑنے پر شہر کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زیرعلاج رہنے کے بعد خاتون ‏زندگی کی جنگ ہار گئیں۔ خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ متوفیہ کی ‏عمر 39 سال اور برطانوی شہریت تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایسٹرازینیکا ویکسین لگوانے سے خون جمنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن ‏کی تحقیقات یورپی میڈیسن ایجنسی کرے گی۔

برطانیہ کی آکسفورڈ اور ایسٹرا زینیکا کرونا ویکسین کے استعمال کے بعد خون جمنے اور لوتھڑے ‏بننے کی شکایات سامنے آئی ہیں جو کئی اموات کا سبب بھی بنے ہیں۔

یورپین اور برطانوی میڈیسن ریگولیٹرز نے ایسٹرازینیکا کرونا وائرس ویکسین اور بلڈ کلاٹ کی ایک ‏نایاب قسم کے درمیان ممکنہ تعلق کو دریافت کرلیا ہے۔

برطانوی حکومت کے ایڈوائزری گروپ نے کہا ہے کہ ایسٹرازینیکا ویکسین جہاں ممکن ہو 30 سال ‏سے کم عمر افراد کو استعمال نہ کروائی جائے۔ گروپ کے مطابق یہ مشورہ تحفظ کے خدشات ‏کی بجائے احتیاط کے طور پر دیا گیا ہے۔

ویکسینز ایڈوائزری جوائنٹ کمیٹی کے سربراہ وئی شین لیم نے کہا کہ 30 سال سے کم عمر افراد ‏جو پہلے سے کسی بیماری سے متاثر نہ ہوں انہیں کوئی اور ویکسین دی جانی چاہیئے۔

برطانیہ کے ہیلتھ ریگولیٹر کی سربراہ جون رائنے نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کے لیے ویکسین کے ‏فوائد خطرات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

یورپ میں لاکھوں افراد کو اس ویکسین کا استعمال کروایا گیا اور چند درجن افراد میں بلڈ کلاٹ ‏‏(خون گاڑھا ہو کر جمنے سے لوتھڑے بننا) کی رپورٹس کے بعد متعدد ممالک میں اس ویکسین کا ‏استعمال معطل کردیا گیا۔

دوسری جانب یورپین میڈیسن ایجنسی نے 7 اپریل کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ طبی ماہرین اور ‏ویکسین استعمال کرنے والے افراد کو بلڈ کلاٹس کی ایک نایاب قسم کے امکان کی یاد دہانی کروانا ‏ضروری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اب تک زیادہ تر کیسز 60 سال سے کم عمر خواتین میں ویکسی نیشن کے 2 ‏ہفتے کے اندر رپورٹ ہوئے، تاہم اس وقت دستیاب شواہد سے خطرے کا باعث بننے والے عناصر ‏کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ماہرین کے مطابق کووڈ 19 کی سنگین شدت کا سامنا کرنے والے افراد کو بھی بلڈ کلاٹس کا سامنا ‏ہوتا ہے۔

ای ایم اے کی سیفٹی کمیٹی کی عہدیدار سابین اسٹروس نے بتایا کہ یورپی ممالک میں 3 کروڑ 40 ‏لاکھ خوراکیں دی جا چکی ہیں اور اپریل کے اوائل میں دماغ میں بلڈ کلاٹ کے 169 کیسز رپورٹ ‏ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم جانتے تھے کہ ہم بہت بڑے پیمانے پر ویکسینز کو متعارف کروا رہے ہیں، تو ‏اس طرح کے واقعات نظر آسکتے ہیں اور ان میں سے کچھ اتفاقیہ ہوں گے۔

یاد رہے کہ ایسٹرا زینیکا ویکسین کم لاگت ویکسین ہے جس کو محفوظ کرنے کے لیے زیادہ ‏ٹھنڈک کی بھی ضرورت نہیں۔ برطانیہ اور یورپ میں ویکسین کو بہت زیادہ افراد کو استعمال کروایا ‏گیا ہے اور اب اسے ترقی پذیر ممالک کے ویکسی نیشن پروگرام کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں