The news is by your side.

Advertisement

امریکی پاپ گلوکارہ والد کے خلاف کیس ہار گئیں

لاس اینجلس: امریکی پاپ گلوکارہ برٹنی اسپیئرز اپنے والد کے خلاف عدالتی جنگ ہار گئی ہیں، سپیریئر کورٹ کے جج نے گلوکارہ کے وکیل کی جانب سے والد جیمی اسپیئرز کو ان کی بیٹی کی شریک کنزرویٹر کی حیثیت سے معزول کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

گلوکارہ کے والد جیمی کو 2008 میں اس وقت برٹنی اسٹیٹ کا کنزرویٹر نامزد کیا گیا تھا، جب وہ شدید نفسیاتی بحران کا شکار تھیں، اور انھیں سخت عوامی مخالفت کا بھی سامنا تھا، کیلیفورنیا کی مالیاتی کمپنی بسمر ٹرسٹ پچھلے سال برٹنی اسپیئرز کی دولت کی دیکھ بھال کے لیے شریک کنزرویٹر کی حیثت سے شامل ہوئی تھی، جس کے بعد برٹنی نے والد کی شریک کنزرویٹر کی حیثیت سے معزولی کی درخواست دائر کر دی تھی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

23 جون کو اس سلسلے میں عدالت میں ورچوئل سماعت ہوئی تھی، جس میں 39 سالہ گلوکارہ نے والد پر سخت تنقید کی، اور کہا انھیں اپنی بیٹی کو تکلیف پہنچانا اور کنٹرول کرنا اچھا لگتا ہے، لیکن میں اب اپنی زندگی واپس اور آمدنی و دیگر معاملات میں ’مکروہ مداخلت‘ سے چھٹکارا چاہتی ہوں۔

دوسری طرف والد جیمی اسپیئرز نے عدالت میں ایک درخواست دائر کر دی ہے کہ ان پر لگے الزامات کی تحقیقات کی جائیں، نیز انھوں نے گزشتہ دو برس سے بیٹی کی ذاتی یا طبی امور میں مداخلت نہیں کی۔

یاد رہے کہ اپنے سابق شوہر کیون فیڈر کے ساتھ اختلافات کے باعث وہ شدید نفسیاتی بحران کا شکار ہو گئی تھیں، جسے دیکھتے ہوئے 13 برس قبل عدالت نے ان کے والد کو ان کی نگرانی سونپ دی تھی، جس کے بعد اب پہلی بار 39 سالہ گلوکارہ نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

سماعت کے موقع پر عدالت کے باہر بریٹنی کے مداحوں کا ہجوم بھی جمع ہو گیا تھا، ان کے ہاتھوں میں موجود بینرز اور پوسٹرز پر لکھا تھا ’بریٹنی اسپیئر کو اب آزاد کرو‘ اور ’بریٹنی کی زندگی میں مداخلت بند کرو.‘

بریٹنی اسپیئر نے جج سے کہا کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے شادی کرنا چاہتی ہے اور ان سے بچے کی بھی متمنی ہے، تاہم سرپرست رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، یہ نگرانی میرا بھلا کرنے سے زیادہ مجھے نقصان پہنچا رہی ہے، میں بغیر کسی جائزے کے اس سرپرستی کو ختم کرنا چاہتی ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں