The news is by your side.

Advertisement

برونائی: چور کے ہاتھ کاٹنے اور بدفعلی پر سنگسار کرنے کی سزا، حکومت نے شرعی قانون منظور کرلیا

باندار سیری بیگاوان: برونائی کی حکومت نے چوری پر ہاتھ کاٹنے اور بدفعلی کے مرتکب مجرمان کو سنگسار کرنے کے قانون کو رائج کرنے کی منظوری دے دی جس کا اطلاق آئندہ ہفتے سے شروع ہوجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق برونائی کی حکومت نے بدفعلی اور ہم جنس پرستی کو گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے اس کے مرتکب مجرمان کو سنگسار کرنے کی اجازت دے دی۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق قانون کا اطلاق صرف مسلمانوں پر ہوگا اور یہ آئندہ ہفتے سے نافذ العمل ہوگا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سنگسار کرنے کے قانون کو حکومت چار برس سے منظور کرانے کی کوشش کررہی تھی مگر اُسے شدید تنقید کا سامنا تھا۔

مزید پڑھیں: نڈونیشیا، ایئرہوسٹس کے لیے حجاب لازمی قرار

دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیمی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برونائی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’شرعی قوانین کے اطلاق کو فوری طور پر روکے کیونکہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق برونائی کے اٹارنی جنرل نے 29 دسمبر کو ایک نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ بد فعلی اور ہم جنس پرستی کے خلاف منظور ہونے والے قوانین کا اطلاق تین اپریل 2019 سے ہوگا۔

وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان سلطان حسن البلقیہ کا کہنا تھا کہ ’3 اپریل سے نئے شرعی قوانین کا اطلاق کیا جائے گا، جس میں چوری پر ہاتھ کاٹنے اور بدفعلی یا ہم جنس پرستی پر سنگسار کرنا شامل ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کمیشن نے برونائی کی حکومت کو خبردار کیا کہ ’نئے شرعی قوانین کے اطلاق سے غیر ملکی سیاحوں اور تاجر برادری کی  توجہ کم ہوجائے گی کیونکہ اس کی وجہ سے انسانی حقوق بری طرح متاثر ہوں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: یونان نے مسلمانوں کے لیے اپنا سوسالہ قدیم قانون بدل دیا

حکومت کی جانب سے ابھی قانون کے اطلاق کی حد مقرر نہیں گئی البتہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کسی کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہونے والے شخص کا سرعام سر قلم کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں