The news is by your side.

Advertisement

کیا دانت برش کرکے کرونا سے بچا جاسکتا ہے؟

لندن: کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ماہرین کی جانب سے کئی طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جارہی ہیں، برطانوی ڈینٹل پروفیسر نے کرونا سے بچنے کے لیے دانت برش کرنے کی تدبیر بھی بتادی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف برسٹل کے پروفیسر مارٹن ایڈی کا کہنا ہے کہ میں حیران ہوں کہ میرے شعبے کے ماہرین نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اب تک دانت برش کرنے کی ہدایت جاری کیوں نہیں کیں۔

پروفیسر مارٹن ایڈی کا کہنا ہے کہ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ ٹوتھ پیسٹ مختلف قسم کے وائرس اور بیکٹیریا کو منہ کے اندر جانے سے بچاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کو نصیحت کروں گا کہ وہ جب بھی گھر سے باہر نکلنے لگیں تو جہاں فیس ماسک اور سینیٹائزر وغیرہ کی احتیاط کررہے ہیں وہیں دانت برش کرکے باہر نکلیں۔

پروفیسر مارٹن ایڈی نے کہا کہ دانت برش کرکے باہر نکلنے سے ناصرف آپ کو منہ کے ذریعے وائرس لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوگا بلکہ اگر آپ میں وائرس ہے تو آپ کے ذریعے دوسرے لوگوں کے متاثر ہونے کا امکان بھی کم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے لوگوں کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ٹوتھ پیسٹ کا اینٹی مائیکروبیل اثر 3 سے 5 گھنٹوں تک برقرار رہتا ہے اس دوران اگر آپ باہر ہیں یا دوبارہ باہر جانا چاہتے ہیں تو آپ کو دوبارہ دانت برش کرنے ہوں گے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں کرونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 26 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ 9 لاکھ 97 ہزار افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں