The news is by your side.

Advertisement

بھارت: مسلمان رہنما اور سابق پولیس افسر شبیر حسین زیدی قتل

نئی دہلی: بھارت کی سیاسی جماعت کے مسلمان رہنما اور سابق پولیس افسر شبیر حسین زیدی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شبیر حسین زیدی کو غازی آباد کے علاقے اتر آنچل میں اُس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنی رہائش گاہ کے باہر چہل قدمی کررہے تھے۔

مقتول نے پولیس سے رضاکارانہ استعفیٰ دے کر بہوجن سماج پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، انہوں نے سیاست میں‌ قدم رکھ کر لوک سبھا کے انتخابات میں‌ حصہ لینے کا بھی اعلان کیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق مسلح افراد نے شبیر حسین زیدی کے سر اور سینے پر گولیاں ماریں جب انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تو وہ دم توڑ چکے تھے۔

بہوجن سماج پارٹی نے اپنے رہنما کے قتل پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔ سماج پارٹی کے ترجمان سربراہ کا کہنا تھا کہ لوک سبھا کے انتخابات سے قبل قاتل آزاد ہوگئے، جن لوگوں کو اپنی شکست کا خوف ہے وہ اسلحے کی سیاست کررہے ہیں۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرکار کو قاتلوں کا علم ہے، قاتل وہی ہیں جنہوں نے ماضی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا مگر قانون نے انہیں ریلیف فراہم کیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شبیر حسین زیدی یوپی پولیس میں بطور سب انسپیکٹر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔

لونی بارڈر تھانے کے ایس ایچ او شلیندرا پرتاپ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’قتل کا واقعہ زمین کی لین دین کا شاخسانہ ہے کیونکہ حسین زیدی پراپرٹی کا کام کرتے تھے‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں