The news is by your side.

Advertisement

وفاق نے 1276 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کردیا

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2016-17ء کے لیے 4390 ارب روپے مالیت کا 1276 خسارے کا بجٹ پیش کردیا جس  میں محصولاتی آمدنی کا ہدف 3104 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیش کیا، اجلاس اسپیکر  قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ یہ موجودہ حکومت کا چوتھا بجٹ ہے، انہیں یہ بجٹ پیش کرنے کا اعزاز چوتھی بار ملا ہے۔

بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جون 2013 میں درپیش معاشی دشواریوں کی نسبت وزیراعظم کی قیادت میں ہماری کارکردگی میں بہتری آئی جس کی تصدیق معاشی اعشاریے کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال معاشی ترقی کی شرح 4.7 فیصد رہی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کپاس کی فصل خراب ہونے کے سبب جی ڈی پی کی مجموعی گروتھ پر منفی فرق پڑا ہے۔

اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہ رواں سال ٹیکس محصولات کی وصولی 3104 ارب روپے ہے۔


وفاقی بجٹ 2016-2017


ٹیکس ریونیو

وفاقی وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس ریونیو میں اضافے کے لیے کاوشیں جاری ہیں۔ ملکی معیشت کی ترقی کی رفتار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شرح نمو 4 فیصد سے بڑھ کر 4.7 ہوگئی ہے جو کہ گزشتہ آٹھ برس میں سب سے زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے اغراض ومقاصد میں شامل ہے کہ اسے بڑھا کر 10 فیصد تک پہنچایا جائے۔

     انہوں نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت آئندہ سال شرح نمو کو 5.7 فیصد تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ 2017-2018  میں یہ شرح 7  فیصد ہوگی۔

معاشی خسارہ

آئندہ مالی سال میں معاشی خسارے کو ملکی جی ڈی پی کے 4.3 فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آئندہ مزید کمی لاکر اسے جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک محدود کیا جائےگا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئل کی قیمتوں میں کمی کے سبب آئل بل میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔

عوامی اسکیمیں

فیڈرل بورڈ آف ریونیونے عوام الناس سے منسلک معاشی اسکیموں سے وصولی کو مالی سال 2014-2015 میں 2588 ارب روپے تک پہنچادیا ہے جو کہ 2012-2013 میں 1946 ارب روپے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ 2012-2013 میں 8.2 فیصد تھا جبکہ گزشتہ معاشی سال میں اسے کم کرکے 5.3فیصد پر لایا گیا، اور معاشی سال 2016 کے اختتام پر خسارہ 4.3 فیصد ہے۔

وفاقی ترقیاتی پروگرام

 ترقیاتی پروگرام کے لیے 21فیصد اضافہ کے ساتھ 1675 ارب روپے مختص کیے گیے ہیں جس میں وفاق کا حصہ 800 اور صوبوں کا 875 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ترقیاتی بجٹ کا 97 فیصد جاری منصوبوں پر خرچ ہوگا۔

سگریٹ نوشی کرنے والوں کے لیے بری خبر

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی جو کہ صحت کے لیے انتہائی مضرہے اس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہاہے۔

وفاقی اسحاق ڈار کے مطابق کم درجے کی سگریٹ پر 23 پیسے فی سگریٹ اوراعلیٰ درجے کی سگریٹ پر 55 پیسے فی سگریٹ مقرر کیاجارہاہے۔

 چھالیہ اور پان کی درآمد پرڈیوٹی دگنا کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

موبائل فون

 موبائل فون پر سیلز ٹیکس1500 روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ سستے موبائل فون پر پانچ سو روپے ٹیکس عائد ہوگا۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت معاشرے کے نادار طبقے کو سہارا دیا جارہا ہے اوراس کے تحت رقم حاصل کرنے والے خاندانوں کی تعداد میں 53 لاکھ ہوجائے گی،جن کا وظیفہ 12  ہزارسے بڑھا کر18 ہزارکردیا گیا ہے۔اس مد میں کل 115 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

گزشتہ سال یہ رقم 102 ارب روپے تھی اور حالیہ اضافے کے بعد یہ رقم 53 لاکھ افراد کو مالی معاونت فراہم کرے گی۔

سرکاری ملازمین کی مراعات

معاشی سال 2012-2013 اور 2013-2014 میں دیے جانے والے ایڈہاک اضافے کوبنیادی تنخواہ کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

وفاقی ملازمین کی موجودہ تنخواہ میں 10 فیصد ایڈہاک اضافہ کیا جارہا ہے۔

معذور افراد کے اسپیشل کنوینس الاؤنس کو بڑھا کر1 ہزار روپے کیا جارہا ہے۔

گریڈ 1 سے 15 کے ملازمین کے کنوینس الاوئنس میں 50 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔

کم سے کم تنخواہ کو13 ہزار سے بڑھا کر14 ہزار روپے کیا جارہا ہے۔

یو ڈی سی کی پوسٹ گریڈ 9 سے گریڈ 11  کی جارہی ہے جبکہ موذن کی گریڈ 7 اور خادم کی پوسٹ گریڈ 6 کی جارہی ہے۔

اسسٹنٹ انچارج کی پوسٹ گریڈ 15 سے گریڈ 16 میں کی جارہی ہے۔

گریڈ1تا4کےملازمین کاواشنگ، ڈریس الاؤنس 100سے150روپےماہانہ کردیا گیا ہے۔،

پاک فوج کےافسران کی سول ذمے داریوں پرتعیناتی، لباس کی مدمیں الاؤنس بڑھانےکااعلان لباس کی مد میں الاؤنس 800 روپے سے بڑھا 2500 روپے کیا جارہا ہے۔

سرحد پر تعینات فوجیوں کے الاوئںس کو 300 سے بڑھا کر 500 روپے کیا جارہا ہے۔

پنشن

مالی سال 2016-2017 میں پنشنز کی مد میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کے لیے245 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جب کہ 85 سال کی عمر سے تجاوز کرنے والے بزرگوں کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

سابق مشرقی پاکستان کے ملازمین کی پنشن 2000 سے بڑھا کر 6 ہزار روپے کی جارہی ہے ۔

غیر ملکی ڈراموں پرٹیکس

مقامی چینلزپرغیرملکی ڈرامےاورسیریلزدکھانےپرودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مذکورہ تجویذ ازخود پاکستان براڈ کاسٹرزایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔

بیرون ملک بنائےجانے والے اشتہارات پر لاگت کا20فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگوکرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

دفاعی بجٹ میں 10.2 فیصد اضافہ

اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ دفاعی بجٹ میں گزشتہ سال کی نسبت 10.2 فیصداضافے کے بعد 860 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

گزشتہ مالی سال میں دفاع وطن پراٹھنے والے اخراجات کو بخوبی انجام پذیر کرنے کے لیے دفاعی بجٹ میں 11.3 فیصد اضافہ کرکے 780 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

ریلوے کی بحالی

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ریلوے کی اہمیت کو مدنظررکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ریلوے کی بحالی کے لیے78 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں سے 14 ارب روپے انجنوں کی خریداری پر صرف کیے جائیں گے۔

پورٹ قاسم سے بن قاسم تک دورویہ ریلوے ٹریک تعمیر کیاجائےگا۔

وزیراعظم یوتھ لون پروگرام

وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ” پی ایم یوتھ اینڈ اسکل پروگرامز” کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

گزشتہ سال 44,000 لوگوں کو 1.75 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے تھے اور قرضوں کی واپسی کا تناسب 100 فیصد ہے۔

زرعی پیکیج اور فش فارمنگ

زراعت کےلیے 341 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ زرعی قرضوں کی فراہمی کا ہدف 700 ارب مقرر کیا گیا ہے ۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں 300 روپے اور یوریا کھاد کی قیمت میں 400 روپے فی بوری کمی کردی گئی جبکہ کیڑے مار ادویات پر عائد 7 فیصد سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔ یوریا کھاد کی مد میں حکومت 20ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔

جھینگے اور مچھلی کی خوراک سے ڈیوٹی ختم ، فش فارمنگ پر عائد ٹیکس کی شرح میں کمی کرنے سمیت پولٹری اور لائیو اسٹاک کا ٹیکس کم کرکے دو فیصد کردیا گیا ہے، زندہ چھوٹی مچھلیوں پر عائد دس فیصد ڈیوٹی ختم کردی گئی۔

حکومت نے زرعی قرضوں کا مارک اپ دو فیصد کم کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی،کاشت کاروں کو معیاری بیج کی فراہمی کے لیے حکومت قدم اٹھائے گی۔ ٹیوب ویل کے لیے استعمال ہونے والی بجلی کے یونٹ میں3.5 روپے فی یونٹ کمی کر کے نرخ 5روپے 35 پیسے مقرر کردیا گیا۔

آئی ٹی

آئی ٹی کے شعبے کو ترقی دیتے ہوئے حکومت یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے دور دراز علاقوں میں نئی لائنیں بچھائی جارہی ہیں۔

متبادل توانائی:

متبادل توانائی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، سولر پینل کی درآمد پر عائد ٹیکس کی چھوٹ میں ایک سال کی توسیع کردی گئی۔ ایل ای ڈی لائٹس پر عائد 20فیصد کسٹم ڈیوٹی کم کرکے 5فیصد کردی گئی۔

جائیداد:

جائیداد کی خریدوفروخت پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا گیا۔ جائیداد سے حاصل شدہ آمدنی پر علیحدہ ٹیکس لگایا جائےگا۔ 30لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد کی خریدو فروخت کرنے والوں کو اب زیادہ شرح سے ٹیکس دینا پڑے گا۔

پانچ شعبےڈیوٹی سے مستثنیٰ:

نئے وفاقی بجٹ میں پانچ شعبہ جات کی درآمد پر ڈیوٹی صفر کردی گئی۔ ان شعبہ جات میں ٹیکسٹائل، آلات جراحی، گڈز، کھیل کا سامان اور لیدر شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں