The news is by your side.

Advertisement

قومی اسمبلی سے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور، اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی تمام ترامیم کو کثرت رائے سے رد کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت بجٹ سیشن ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر اراکین نے ووٹنگ میں حصہ لیا، اسپیکر نے اعلان کر کے ایوان کو بتایا کہ بجٹ کی باقاعدہ منظوری ہوگئی۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ کامجموعی حجم 8238ارب روپے ہے، اپوزیشن کی جانب سے ترامیم پیش کی گئیں تھیں جسے ایوان نے کثرتِ رائے سے مسترد کردیا۔

اسپیکر نے بجٹ کی منظوری کا اعلان کرنے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔ ایوان کل مالی سال کی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے گی جس کے بعد بجٹ سیشن اختتام پذیر ہوگا۔ باقاعدہ منظوری اور اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس سے روانہ ہوگئے۔

اپوزیشن کی گیدڑ بھپکیوں کے باوجود بجٹ ایوان سے منظور کروایا

فردوس عاشق اعوان

دوسری جانب معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی گیدڑبھبکیوں کےباجودبجٹ منظورہوا، اتحادیوں کےساتھ ملکربجٹ بھرپور اکثریت سے منظور کرایا۔

اُن کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اوردفاع کےساتھ جڑےبجٹ کی منظوری خوش آئندہے، بجٹ منظوری میں تعاون پر اتحادی جماعتوں کےمشکورہیں، پاکستانی تاریخ میں پہلی بار بجٹ اجلاس 70 گھنٹے سے زائد جاری رہا۔

معاونِ خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نےبجٹ کی منظوری میں رکاوٹ بننےکیلئےتمام حربےآزمائے تاہم ایوان میں موجود وزیر اعظم کے کھلاڑیوں نے حزبِ اختلاف کی ہر چال کو ناکام بنایا، اپوزیشن کےآئینی اورقانونی کردارکوتسلیم کرتےہیں، بجٹ منظوری عوامی نمائندوں کاعمران خان کے وژن پربھرپوراعتمادکا مظہرہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلےمرحلےمیں اپوزیشن کو چاروں شانےچت کردیا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف مجوزہ تحریک کا انجام بھی اسی طرح کا ہوگا، تمام اکائیوں کو تحفظ دینےکا نام سینیٹ آف پاکستان ہے، صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک وفاق پر حملے کے مترادف ہے، چیئرمین سینیٹ کو تحفظ دینے کے لیے حکومت تمام آئینی اقدامات کرے گی۔

مزید پڑھیں: بجٹ 2019 -2020: تحریک انصاف نے 7 کھرب 22 ارب کا بجٹ پیش کردیا

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں دفاعی بجٹ بغیر مخالفت منظور

یاد رہے کہ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے گیارہ جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا تھا،  آئندہ مالی سال 2020-2019 کے لیے 70 کھرب 22 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے ملک بھر کے مجموعی ترقیاتی کاموں کے لیے 18 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ کو 17ہزار 500 روپے مختص کیا گیا ہے، گریڈ 1سے 16گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کیا گیا اسی طرح 17سے20گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ 21سے22گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کااعلان کیا گیا۔

وفاقی کابینہ اور اراکین اسمبلی نے رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ بھی کیا۔  بجٹ کا حجم 67 کھرب روپے مختص کیا گیا جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 550 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔

ایوان میں بجٹ پیش ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں اس پر تفصیلی بحث بھی ہوئی جس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا، اس ضمن میں اسپیکر اسمبلی نے گرفتار اراکین اسمبلی آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کیے جس کے تحت انہوں نے اجلاسوں میں شرکت کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں