The news is by your side.

Advertisement

بجٹ 2019-20 : مختلف سیاسی اور تاجر برادری کے رہنماؤں کا رد عمل

اسلام آباد : وفاقی حکومت کے بجٹ پر ملک کی سیاسی اور تاجر برادری نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا نہیں بلکہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا وفاقی بجٹ2019-20 پیش کردیا، مذکورہ بجٹ کا حجم 70.22 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔

سینیٹر سراج الحق

اس حوالے سے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ پاکستان کا نہیں بلکہ عوام کیلئے آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، بجٹ میں سارا زور ٹیکس اور اشیاء کی قیمتیں بڑھانے پردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے صرف آئی ایم ایف بجٹ پڑھ کر سنانے کی ذمہ داری ادا کی، اس کے علاوہ بجٹ میں معاشی مشکلات کے حل اور مہنگائی کم کرنے پرتوجہ نہیں دی گئی، بجٹ میں700ارب کے مزید ٹیکسز سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

مریم اورنگزیب

دوسری جانب نون لیگ کی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آج بجٹ میں ملکی معیشت کا جنازہ نکال کر اس کی خود مختاری کو داؤ پر لگا دیا گیا۔

بجٹ میں نہ روزگار ہے نہ کاروبار اور نہ تجارت، ترقی کی شرح کم اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا، اپوزیشن چاہتی تھی نالائق حکومت کا بجٹ عوام سنیں، انہوں نے کہا کہ 50لاکھ گھر کا دعویٰ کرنیوالوں نے منصوبے پر ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا، آئی ایم ایف کا بجٹ تھا جو پیش ہوگیا۔

یہ مہنگائی کا سونامی آئے گا، بھنگڑے ڈالے جارہے ہیں، سمجھ نہیں آئی کیا خوشی تھی، یہ پہلا بجٹ ہے جو تاریخی اور آئی ایم ایف نے بنایا ہے۔ مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ اپوزہشن لیڈر شہباز شریف جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرینگے۔

سینیٹر پروفیسر ساجد میر

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی وعدے پر پورے نہیں اُتر سکی۔

عوام دوست نہیں آئی ایم ایف دوست بجٹ پیش کیا گیا، جو عوام دشمنی پر مبنی ہے۔ نئے ٹیکسوں سے مہنگائی کا طوفان آئے گا اور بیروزگاری بڑھے گی۔

سینیٹر پروفیسر ساجد میر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ادارے اربوں روپے کا بجٹ کھارہے ہیں، سفید ہاتھی بنے اداروں سے متعلق فیصلے کرنا ہوں گے، انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کر حکومت نے پوری قوم کو کنگال کر کے رکھ دیا ہے۔

سراج قاسم تیلی

علاوہ ازیں تاجر رہنما سراج قاسم تیلی نے کہا کہ حکومت نے چینی پر تین روپے فی کلو اضافہ کیا ہے، سیمنٹ کی قیمت بڑھانے سےعام آدمی متاثر ہوگا، لوگ پہلے ہی ڈالر کی وجہ سے تنگ ہیں جبکہ چیئرمین ایف بی آر نے کہا بھی تھا کہ ٹیکس وہاں لگے گاجہاں سے نہیں آتا۔

ایف پی سی سی آئی

ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر نوراحمدخان نے نئے مالی سال کے بجٹ کو مایوس کن قرار دیا ہے، اپنے بیان میں ان کا کہنا ہے کہ زیرو ریٹڈ سیکٹر پر ٹیکس لگانے سے کاروبار پر منفی اثرپڑے گا، تاجر برادری سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔

مزید پڑھیں: بجٹ 2020 -2019: تحریک انصاف نے 70 کھرب 22 ارب کا بجٹ پیش کردیا

کوئٹہ چیمبر آف کامرس

کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے عہدیداران جمعہ بادیزئی اور بدرالدین کاکڑ نے کہا کہ وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں، انڈسٹریز کے قیام کیلئے بجٹ میں کوئی بات نہیں، وفاقی بجٹ نے تاجروں کیلئے مزید مشکلات پیدا کردیں ہیں، برآمدات کی مد میں صرف40ارب روپے ناکافی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں